بھارت کی امیر کابینہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پرفل پٹیل بھارتی کابینہ کے سب سے امیر وزیر ہیں۔

بھارتی وزیراعظم کے دفتر کو کابینہ میں شامل وزراء کی جانب سے فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیل کے مطابق دو برس میں وزراء کے اثاثہ جات میں اوسطاً تین کروڑ تیس لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

ایک وزیر کے اثاثوں میں تو سنہ دو ہزار نو سے گیارہ کے درمیان قریباً گیارہ سو فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دو اور وزراء کے اثاثے بالترتیب آٹھ سو اٹھائیس اور سات سو پانچ فیصد بڑھی ہے۔

بھارت کی فضائی کمپنی ائر انڈیا کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے چاہے نہ ہوں اسی محکمہ کے سابقہ وزیر پرفل پٹیل کی جائیداد میں دو برس میں بیالیس کروڑ بیس لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت وہ ایک سو بائیس کروڑ روپے سے زائد کی جائیداد کے ساتھ بھارتی کابینہ کے سب سے امیر وزیر ہیں۔

بھارتی اخبار ’میل ٹوڈے‘ کے ایڈیٹر بھارت بھوشن کے مطابق بڑھتی ہوئی جائیداد کی یہ معلومات سے عوام میں یہ احساس بڑھے گا کہ یہ رہنما ان کی اقتصادی حالت نہیں سمجھتے.

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں بھوشن نے کہا، ’اب عام آدمی رہنما نہیں بن سکتا کیونکہ انتخابات میں کروڑوں پیسہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے ، کسی بھی پارٹی میں دیکھیں تو وزیر وہی لوگ ہیں جو بڑے تاجر ہیں ، تو اب ایسے ہی لوگ سیاست میں آئیں گے جو غریب لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں‘۔

وزیراعظم کے دفتر میں اثاثوں کی جو تفصیلات وزراء نے جمع کروائی ہیں، ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز اور نیشنل الیكشن واچ نے مشترکہ طور پر 2009 میں لوک سبھا انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو دی گئی تفصیلات سے ان کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔

ماضی میں شہری ہوا بازی کے محکمے کے وزیرِ مملکت اور ہیوی انڈسٹریز کے موجودہ وزیر پرفل پٹیل کی جائیداد میں ماہانہ پونے دو کروڑ روپے سے زیادہ کا اوسط اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری طور پر این سی پی کے ممبر پارلیمنٹ پرفل پٹیل کے کاروبار کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے کیونکہ لوک سبھا کی ویب سائٹ پر ان کے تعارف میں کاروبار کا کالم خالی ہے۔

لیکن پرفل پٹیل سے زیادہ حیرت انگیز ترقی کی ڈی ایم کے سے تعلق رکھنے والے اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت ڈاکٹر ایس جنتركش كن نے کی ہے اور ان کے اثاثوں میں 1092 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

2009 کے الیکشن کے وقت ان کے پاس تقریباً چھ کروڑ روپے کی جائیداد تھی جو دو سال میں وہ بڑھ کر ستر کروڑ بیالیس لاکھ روپے کی ہو گئی یعنی ان کے اثاثوں میں ماہانہ دو کروڑ ارسٹھ لاکھ روپے سے بھی زیادہ اضافہ ہوا.

کانگریس کی رکنِ پارلیمان اور ٹیكسٹائل کی وزیر مملکت پی لکشمی کی جائیداد اسی مدت میں ایک کروڑ تہتر لاکھ روپے سے بڑھ کر سولہ کروڑ بارہ لاکھ روپے ہوگئی یعنی اس میں 828 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔

کانگریس کے ہی ایک اور رکن تشار چودھری کی جائیداد 705 فیصد بڑھ کر پونے پچیس لاکھ روپے سے بڑھ کر تقریباً دو کروڑ روپے ہو گئی ہے۔

دلچسپ یہ ہے کہ ان دونوں وزراء کے کاروبار کی معلومات بھی لوک سبھا کی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں ہیں۔

تاہم اس فہرست میں کچھ ایسے وزراء بھی ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت دو برس میں کم ہوئی ہے۔

تجزیہ کے مطابق کل پندرہ وزراء کی جائیداد میں 2009 سے 2011 کے درمیان کمی آئی ہے اور ان میں ويرپپا مولي، فاروق عبداللہ ، جے پال ریڈی ، پرنيت کور ، جے رام رمیش اور جتن پرساد کے علاوہ وزیرِ داخلہ پی چدمبرم اور وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

ويرپپا مولي کے پاس 2009 میں دو کروڑ ترانوے لاکھ روپے کی جائیداد تھی جس کی مالیت اب کم ہو کر تیرہ لاکھ تینتیس ہزار رہ گئی ہے۔

اسی طرح فاروق عبداللہ ، پرنيت کور اور جے پال ریڈی کی جائیداد میں تقریباً نوّے فیصد کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی جائیداد میں گیارہ فیصد کی کمی آئی ہے۔

اسی بارے میں