پٹودی کرکٹ کے ' آخری نواب' تھے

منصور علی خان پٹودی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption منصور علی خان پٹودی نواب خاندان سے تعلق رکھتے تھے

منصور علی خان پٹودی ’کرکٹ کے آخری نواب' تھے اور انہیں ایک ایسے کپتان کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے شکست خوردہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو جیتنا سکھایا.

انہوں نے ٹیم کے اندر یہ اعتماد پیدا کیا کہ جب طاقتور غیرملکی ٹیموں کے خلاف وہ میدان پر اترتی ہے تو نتیجہ کسی کے بھی حق میں جاسکتا ہے۔

ان کی زندگی کا سفر حیرت انگیز رہا۔ کچھ تو ان کے شاہی بیک گراؤنڈ اور کچھ ان کی پرکشش شخصیت کی وجہ سے ان سے منصوب بہت سی کہانیوں نے افسانوں کی شکل اختیار کر لی تھی۔

پٹودی کی انکساری اور کثر نفسی کے قصے بھی مشہور ہیں لیکن شکار کے شوق کی وجہ سے وہ ایک مرتبہ جیل جانے سےبھی بال بال بچے۔ ان کے خلاف غیر قانونی طور پر شکار کا مقدمہ ہریانہ کی ایک عدالت میں اب بھی قائم ہے۔

وہ نواب ضرور تھے لیکن پٹودی ملک کی سب سے چھوٹی ریاستوں میں سے ایک تھی۔ بی بی سی سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاتھا کہ ’ انگلینڈ میں لوگ سمجھتے تھے کہ شاید ہر نواب کے پاس پچاس ہاتھی اور دو ہزار نوکر ہوتے ہیں'۔

لیکن ان کی والدہ بھوپال کے نواب حمید اللہ خان کی بیٹی تھیں اور بھوپال کو ملک کی سب سے دولت مند ریاستوں میں شمار کیاجاتا تھا۔ اسی لیے انہوں نے انیس سو اکیانوے میں کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر بھوپال سے لوک سبھا کا الیکشن لڑا لیکن وہ رام مندر کی تحریک کا دور تھا، اس وقت بی جے پی کی لہر تھی جس کے سامنے وہ نہیں ٹک سکے۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ انتخابی میدان کا رخ نہیں کیا۔

جب ان سے کار کے اس’خوفناک' حادثے کے بارے میں پوچھا جاتا جس میں ان کی ایک آنکھ خراب ہوگئی تھی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتے کہ ’وہ کوئی بڑا حادثہ نہیں تھا، بس کانچ کا ایک ٹکڑا میری آنکھ میں لگ گیا تھا۔۔۔'

اور ایک آنکھ سے کرکٹ کھیلنا کتنا مشکل تھا؟ ’ مشکل تو بہت تھا لیکن میری قسمت نے بھی میرا ساتھ دیا کیونکہ اس وقت زیادہ تیز گیند باز نہیں تھے۔’ اور یہ چارلی گریفتھ اور ویس ہال جیسے خوفناک فاسٹ بالرز کا زمانہ تھا!

اپنی واحد ڈبل سینچری کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ کوئی خاص بات نہیں تھی، اس وقت تک میچ ڈیڈ ہوچکا تھا اور وکٹ بھی اچھی تھی!

منصور علی خان اپنی رگ مزاح کے لیے بھی مشہور تھے۔ جن لوگوں کو ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا، انہوں نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کچھ دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption منصور علی خان پٹودی نے آنکھ میں تکلیف کے باوجود کئی میچ کھیلے

جب ویسٹ انڈیز میں ایک میچ کے دوران ناری کانٹریکٹر کے سر میں بال لگی اور وہ بری طرح زخمی ہوگئے تو صرف اکیس برس کی عمر میں پٹودی کو کپتان بنا دیا گیا۔

اس وقت چندو بورڈے سینئر کھلاڑی تھے اور کپتانی کے دعویدار بھی۔ بورڈے کہتے ہیں کہ ’ انیس سو اڑسٹھ میں جب ٹیم آسٹریلیا گئی تھی تو ہم ایک پارٹی میں تھے جہاں پٹودی آسٹریلوی میڈیا سے تفریح لینا چاہتے تھے۔ پٹودی نے مجھ سے کہا: سب کے سامنےمجھ سے آکر پوچھنا کہ آپ اپنی بیوی کی سالگرہ کے لیے انڈیا کب جارہے ہیں؟ میں نے ایسا ہی کیا اور اگلے دن ایک اخبار میں سرخی تھی کہ پٹودی انڈیا واپس جارہے ہیں، وہ اسی طرح کے انسان تھے۔'

پٹودی کے بعد اجیت واڈیکر ہندوستانی ٹیم کے کپتان بنے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ ایک چیرٹی میچ کے لیے بھوپال گئے تو کیا ہوا۔’ایک دن میں، وجے منجریکر، ایراپلی پرسنا، وشو ناتھ اور پٹودی شکار کھیلنے گئے۔جنگل میں اچانک ہمیں کچھ ڈاکوؤں نے گھیر لیا جو ہمیں چھوڑنے کے لیے بھاری رقم مانگ رہے تھے۔ سب ڈر گئے تھے۔ منجریکر نے کہا کہ وہ تو ایک مل میں کام کرتے ہیں، وشو ناتھ نے کہا کہ وہ تو صرف کرکٹ کھیلنے آئے ہیں۔۔۔پھر ہم سب نے کہا کہ ہمیں تو پٹودی لائے ہیں لیکن ڈاکو نہیں مانے، وہ دو لاکھ روپے مانگ رہے تھے۔ پٹودی گئے اور روپیوں سے بھرا ہوا تھیلا لیکر لوٹے۔ اگلے دن ہم نے دیکھا کہ وہ ڈاکو ناشتے کی میز پر ہمارے ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔ یہ مزاق ہمیں آج بھی یاد ہے!'

فرخ انجینیر، جو پٹودی کی کپتانی میں اوپنر اور وکٹ کیپر تھے، یاد کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ پریکٹس کے دوران پٹودی نے سب کھلاڑیوں کی ایک آنکھ پر پٹی بندھوا دی۔ ’ ہم سب اچھے فیلڈر تھے لیکن بال کو کیچ نہیں کر پا رہے تھے۔ پٹودی خوب ہنس رہے تھے، جیسے کہہ رہے ہوں کہ اگر میری دونوں آنکھیں ٹھیک ہوتیں تو میں کتنا اچھا کرکٹر ہوتا۔'

مشہور ناول نگار جیفری آرچر ان کے قریبی دوست تھے۔ انہوں نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اگر پٹودی کی بائیں آنکھ خراب نہ ہوتی تو نامعلوم کرکٹ کے میدان پر وہ کن بلندیوں کو چھوتے؟

پٹودی نے جس آنکھ سے عظیم کارنامے انجام دیے اسے وہ کسی ضرورت مند کے لیے عطیے کے طور پر چھوڑ گئے ہیں۔

اسی بارے میں