منصور علی خان پٹودی سپرد خاک

سیف علی خان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption منصور علی خان پٹودی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان منصور علی خان پٹودی کو انکے آبائی وطن ہریانہ کے قصبے پٹودی میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز ظہر کی نماز کے بعد انکی تدفین کی گئی ہے۔

انکے جنازے میں عام عوام کے علاوہ فلم اور کھیل کی دنیا کی مشہور ہستیوں نے شرکت کی۔ ان میں کئی سیاستدان بھی شامل تھے۔

اس سے پہلے دلی کے وسنت وہار علاقے میں واقع انکے گھر پر مشہور ہستیوں سمیت انکے دوست و احباب نے انہیں نم آنکھوں سے الوداع کہا۔

منصور علی خان پٹودی جمعرات کی شام انتقال کرگئے تھے۔

پٹودی کی عمر ستر سال تھی اور وہ دلی کےایک ہستپال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیرِعلاج تھے۔

دلی کے رام منوہر لوہیا ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ پٹودی کے پھیپڑوں میں شدید انفیکشن تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم کو وافر مقدار میں آکسیجن نہیں مل پا رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس موقع پر بالی وڈ کے علاوہ کھیل کی دنیا سے منسلک افراد موجود تھے

پٹودی، جو صرف ایک آنکھ میں بینائی ہونے کے باوجود اکیس سال کی عمر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے تھے، حال ہی میں لندن سے واپس آئے تھے جہاں انہوں نے بھارت اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر اپنے والد افتخار علی خان کے نام سے منصوب ٹرافی فاتح ٹیم کے کپتان کو پیش کی تھی۔

پٹودی کے والد بھی بھارتی ٹیم کے کپتان تھے اور انہوں نے انگلینڈ کے لیے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی تھی۔

پٹودی کی اہلیہ شرمیلا ٹیگور ستر اور اسی کی دہائی میں بالی وڈ کے مشہور ترین اداکارؤں میں شمار کی جاتی تھیں۔ ان کے بیٹے سیف علی خان بھی بالی وڈ کے بڑے سٹارز میں شمار کیے جاتے ہیں۔

اپنے زمانے میں پٹودی ایک جارحانہ بلے باز اور شاطر کپتان کے طور پر مشہور تھے۔ ان کی برق رفتار فیلڈنگ کے لیے انہیں ’ٹائگر‘ کا لقب دیا گیا تھا۔ انگلینڈ میں زمانہ طالب علمی میں ہی کار کے ایک حادثے میں ان کی ایک آنکھ خراب ہوگئی تھی۔

نواب منصور علی خان دلی کے قریب واقع سابق ریاست پٹودی کے آخری نواب تھے۔ انیس سو اکہتر میں ہندوستان میں شاہی خطاب ختم کر دئے گئے تھے۔ ان کی والدہ بیگم ساجدہ سلطان بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کی بیٹی تھیں۔

ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں جمعرات کو ایک بلیٹن جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’منصور علی خان کی حالت بہت نازک ہے اور وہ آئی سی یو میں ہیں۔ انہیں بھاری مقدار میں آکسیجن فراہم کی جارہی ہے اور سانس لینے کے لیے مشینوں کی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ وہ ہوش میں ہیں اور ان کا دل ٹھیک طرح سے کام کر رہا ہے۔ ان کی صحت پر بہت قریبی نگاہ رکھی جارہی ہے۔‘

ماہرین کا کہنا تھا کہ پٹودی کو جو بیماری ہے اس کا کوئی پکا اور مستقل علاج نہیں۔

پٹودی نے بھارت کے لیے چھالیس ٹیسٹ کھیلے جن میں سے چالیس میں وہ کپتان رہے۔ آج تک انہیں بھارتی کرکٹ ٹیم کا سب سے کم عمر کا کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تقریباً پینتیس کی اوسط سے انہوں نے دو ہزار سات سو ترانوے رن بنائے جس میں چھ سینچریاں اور سولہ نصف سینچریاں شامل تھیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ انفرادی سکور دو سو تین رن تھا۔

اسی بارے میں