تیلنگانہ کے لیے ہڑتال، بس، ٹرین سروس معطل

تیلنگانہ کے لیے احتجاج کی فائل فوٹو
Image caption تیلنگانہ کا مسئلہ ایک پرانا اور پیچیدہ مسئلہ ہے

آندھرا پردیش میں علٰیحدہ ریاست تیلنگانہ کے قیام کے لیے گزشتہ بارہ دن سے جاری ہڑتال کے دوران سنیچر کو اڑتالیس گھنٹے کی ریل روکو مہم شروع ہوگئی ہے۔

حیدرآباد سمیت سب ہی دس اضلاع میں کوئی ٹرین نہیں چل رہی ہے اور لاکھوں مسافر جگہ جگہ پھنسے ہوئے ہیں۔

ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں گزشتہ کوئی چھ دنوں سے نہیں چل رہی ہیں اور اس علاقے کے لاکھوں آٹو رکشہ چلانے والے بھی دو دنوں کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔اس وجہ سے پورے تیلنگانہ کے علاقے میں ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے علاوہ شراب کی دوکانیں اور نائی بھی ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں۔

سنیچر کو شروع ہوئی اڑتالیس گھنٹوں کی ریل روکو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے جوائنٹ سٹرگل کمیٹی اور اس سے منسلک سیاسی جماعتوں کے رہنماء سنیچر کی صبح چھ بجے سے ہی کئی علاقوں میں ریل کی پٹریوں پر بیٹھ گئے ہیں۔

ان میں تیلنگانہ راشٹر سمیتی، بھارتیہ جنتا پارٹی، سی پی آئی ایم ایل، اور نیو ڈیموکریسی کے لیڈر شامل ہیں۔

ہڑتال کے سبب تین سو سے زیادہ ٹرینیں منسوخ کرد گئی ہیں اور چھپن ٹرینوں کا راستہ بدل دیا گیا ہے۔

حیدرآباد شہر میں تین سو لوکل ٹرینوں کو بھی منسوخ کردیا گيا ہے۔

صوبے کے پاور پلانٹس کو جن کانوں سے کوئلہ فراہم کیا جاتا ہے ان کانوں کے مزدور بھی ہڑتال میں شامل ہیں۔ سرکار نے انہیں لالچ دیا ہے کہ اگر وہ ہڑتال پر نہیں گئے تو انہیں ایک دن کے کام کے بدلے دو دن کی مزدوری ملے گی۔

صوبہ ویسے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے دوچار ہے۔ صوبے کے بڑے مراکز میں دو گھنٹے اور دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے کی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

ریاست آندھر پردیش میں تیلنگانہ کے حامی دارالحکومت حیدرآباد اور اس کے آس پاس کے دس اضلاع پر مشتمل علاقے میں ایک الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ کافی پرانا ہے لیکن کافی احتجاج کے بعد مرکزی حکومت نے علٰحیدہ ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

اسی بارے میں