’تجارت پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے‘

Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان لگ بھگ دو ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے

پاکستان کے وزیرِتجارت مخدوم امین فہیم اسّی پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں کے ہمراہ بھارت پہنچ گئے ہیں اور کل ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں ایک کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

امین فہیم کل ہی ممبئی سے دلِی کے لیے روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ اپنے بھارتی ہم منصب آنند شرما سے ملاقات کریں گے جن کی دعوت پر وہ بھارت تشریف لائے ہیں۔

واضح رہے کہ چھببیس نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی اعلٰی سطحی تجارتی کانفرنس ہوگی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ پاکستانی وزیرِتجارت اسی ہوٹل میں مقیم ہیں جہاں بھارت کے بقول پاکستانی دہشت گردوں نے حملے کیے تھے۔

تبصرہ نگاروں کے مطابق اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حملوں کے بعد پایا جانے والا تناؤ پہلے سے کم ہو گیا ہے۔ ان کے بقول سیاسی سطح پر تعلقات میں بہتری حاصل کرنے کے لیے تجارتی تعلقات میں بہتری مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کا پاکستان سے یہ پرانا مطالبہ ہے کہ وہ اسے تجارت میں ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ کا درجہ دے تاہم پاکستان کا بھارت سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اسے یورپی یونین سے ملنے والی تجارتی رعایات پر اعتراض نہ کرے۔ یوروپی یونین نے پچھلے سال پاکستان آنے والے سیلاب کے بعد پچھتر اشیاء میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بھارت کے اعتراض کے بعد فی الحال اس فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔

سرکاری طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان لگ بھگ دو ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے لیکن غیر سرکاری طور پر اس سے کئی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سرکاری تجارت کو پندرہ ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں