بھارت: بارشوں، سیلاب سے 20 لاکھ متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتی ریاستوں اترپردیش، اڑیسہ اور بہار میں شدید بارشیں اور سیلاب آگیا ہے۔

بھارت کی ریاستوں اتر پردیش، اڑیسہ اور بہار میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے باعث صورتحال گمبھیر ہوتی جارہی ہے اور اب تک اس قدرتی آفت سے بیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

بھارت کے کچھ علاقوں میں گزشتہ دو ہفتے سے جاری مون سون کی شدید بارشیں ہوئی ہیں جن میں اسّی سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ کئی علاقے پانی کی سطح میں اضافہ کے باعث دیگر علاقوں سے کٹ گئے ہیں۔

ریاست اتر پردیش میں زبردست بارشوں کے باعث کئی مکانات اور ان کی دیواریں گِر گئیں ہیں۔ بہار میں شدید بارشوں کے باعث آٹھ اضلاع میں سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اڑیسہ اب تک سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے جس کے دس اضلاع سیلاب کے باعث زیرِ آب آ چکے ہیں۔

سپیشل ریلیف کمشنر پی کے موہاپترا کا کہنا ہے کہ ریاست میں پچپن افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں چند ڈوب گئے ہیں جبکہ دیگر سانپوں کے ڈسنے یا دیوار گرنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق، دس افراد جو دریائے برہمانی میں کشتی الٹنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے انہیں بازیاب کرلیا گیا ہے۔

چند علاقے ایسے ہیں جو دریاؤں کے پشتوں میں شگاف پڑنے کے سبب زیرِآب آگئے ہیں اور دیگر علاقوں سے کٹ گئے ہیں۔ ان علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک اور صاف پانی پہنچانا واحد راستہ رہ گیا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے اکسٹھ ہزار افراد کو نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ امدادی آپریشن شروع کیا جا چکا ہے۔

ریاست اتر پردیش کے شمال میں بارشوں کی وجہ سے اٹھائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بڑے دریاؤں گنگا اور گومتی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بارشوں اور سیلاب سے بیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں: حکام

اہلکاروں نے بھارت کے خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ ضلع جونپور میں مسلسل بارشوں اور دیوار گرنے کے سبب اٹھارہ افراد کی موت ہوئی ہے۔

اترپردیش کی پڑوسی ریاست بہار میں حکام نے آٹھ اضلاع میں سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے جن میں دارالحکومت پٹنہ بھی شامل ہے۔ یہ وارننگ موسلادھار اور مسلسل بارشوں کے باعث دریائے گنگا اور سون میں پانی کی سطح میں اضافے کے بعد جاری کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے پانی کی سطح میں اضافہ اس لیے بھی ہورہا ہے کیونکہ اِندراپوری بیراج سے سنہ انیس سو پچھتر کے بعد پانی سب سے زیادہ مقدار میں چھوڑا گیا ہے۔

حکام کے مطابق، ضلع سسارام میں سیلاب میں پھنسے کم سے کم ستّر افراد کو بچا لیا گیا ہے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں