بی جے پی پر منموہن سنگھ کی تنقید

بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اختلاف اقتدار مین آنے کے لیے اس قدر بے چین ہے کہ وہ وقت سے پہلے انتخابات مسلط کرنے کی کوششش کر رہی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔

امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد نیو یارک سے فرینکفرٹ جاتے ہوئے اپنے خصوصی طیارے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ حزب اختلاف وقت سے پہلے ہی بے چین ہو رہی ہے ۔

انہوں نے اپوزیشن کو صبر رکھنے کی صلاح دی ۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’کچھ لوگ ملک کے سیاسی نظام کو ہلانا چاہتے ہیں۔‘

ٹو۔جی گھپلے کے سلسلے میں پی چدامبرم کے بارے میں وزیر خزانہ کے ایک حالیہ نوٹ کے حوا لے سے انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور مسٹر چدامبرم پر انہیں پورا بھروسہ ہے۔ اس نوٹ میں پی چدامبرم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پچھلی حکومت میں وزیر خزانہ کے طور پر ٹیلی مواصلات کے محکمے میں ہونے والے گھپلے کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہین کیے تھے۔

پرنب مکھرجی کی طرف سے لکھے گئے اس نوٹ کی بنیاد پر حزب اختلاف کی جماعتیں مسٹر چدامبرم کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں بی جے پی کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے ایک پریس کانفرنس میں پی چدامبرم پر الزام لگایا تھا کہ ’انہیں ٹیلی مواصلات کے گھپلے کا علم تھا اور ان کی جگہ جیل کی وہی کوٹھری ہے جہاں اس معاملے کے اصل ملزم اے راجہ کو رکھا گیا ہے۔‘

مسٹر سنگھ نے کہا کہ ان کی حکومت ایک مربوط حکومت ہے اور وہ ایک مربوط نظام چلا رہی ہے ’میری کابینہ میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ مین مختلف موضوعات پر ہمیشہ کھلے ذہے کے ساتھ بات ہوتی ہے۔

وزیر اعظم منگل کی شب دلی پہنچ گئے ۔ مسٹرچدامبرم نے کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم سے بات کرنے کے بعد حزب اختلاف کے الزامات کا جواب دیں گے۔

اسی بارے میں