نوٹ کے بدلے ووٹ، کلکرنی کو جیل

کلکرنی
Image caption سدھیندر کلکرنی اڈاونی کے قریب متعد رہے ہیں

دلی کی ایک عدالت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ایل کےاڈوانی کے ایک سابق قریبی معتمد سدھیندر کلکرنی کو نوٹ کے بدلے ووٹ سکینڈل میں جیل بھیجنے کاحکم دیا ہے۔

اس کیس میں سماجوادی پارٹی کےسابق رہنما امر سنگھ اور بی جے پی کے دو سابق اراکین پارلیمان بھی جیل میں ہیں جبکہ پولیس ایک موجود رکن پارلیمان کے خلاف کارروائی کے لیے لوک سبھا کے سپیکر کی منظوری کا انتظار کر رہی ہے۔

یہ معاملہ سن دو ہزار آٹھ کا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان سویلین جوہری معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی جس کے بعد حکومت کو پارلیمان میں اپنی اکثریت ثابت کرنا پڑی تھی۔

مسٹر کلکرنی پر الزام ہے کہ انہوں نے نوٹ کے بدلے ووٹ کیس کی سازش تیار کی تھی جس میں بی جے پی کے تین اراکین پارلیمان کو پہلے رشوت دی گئی اور پھر وہ اعتماد کی تحریک سے ذرا پہلے یہ رقم لیکر لوک سبھا میں جا پہنچے۔

کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے لیکن پولیس یہ پتہ لگانے میں اب تک ناکام رہی ہے کہ اراکین پارلیمان کو جو رقم دی گئی تھی، وہ کس نے فراہم کی تھی۔

عدالت نے سدھیندر کلکرنی کی اس دلیل کو ماننے سے انکار کر دیا کہ وہ بدعنوانی کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مسٹر کلکرنی کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے پوچھا کہ اگر وہ واقعی بدعنوانی کا پردہ فاش کر رہے تھے تو انہوں نے تفتیشی ایجنسیوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا تھا۔

بی جے پی کا موقف ہے کہ مسٹر امر سنگھ کانگریس کی طرف سے حکومت کو بچانے کے لیے اراکین پارلیمان کو خرید رہے تھے لیکن کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔

مسٹر اڈوانی نے بھی پارلیمان کے حالیہ اجلاس میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اس پورے کیس کا مکمل علم تھا اور اگر بی جے پی کے دو سابق رکن پارلیمان کو ملزم بنایا گیا ہے تو انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔

لیکن سی بی آئی نے اراکین پارلیمان پر رشوت لیبنے کا الزام لگایا ہے۔ اس کیس میں کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کا نام بھی لیا گیا ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ جو لوگ بدعنوانی کا پردہ فاش کر رہے تھے انہیں تو جیل بھیج دیا گیا ہے اور جو حکومت کو بچانے کےلیے دولت کا استعمال کر رہے تھے وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔

اس وقت امرسنگھ سماجوادی پارٹی کے جنرل سیکریٹری تھے۔ سماجوادی پارٹی نے اس تحریک میں حکومت کا ساتھ دیا تھا

تب سے ہی یہ الزامات گردش کرتے رہے ہیں کہ اس پورے معاملے میں امر سنگھ بھی شامل تھے اور بی جے پی کے اراکین پارلیمان کو یہ رقم انہوں نے ہی بھجوائی تھی۔

اس کیس میں دو لوگوں کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتار کیے جانے والوں میں سنجیو سکسینا اور سہیل ہندوستانی شامل ہیں۔ سنجیو سکسینا کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امر سنگھ کے لیے کام کرتے تھے اور پیسے انہوں نے ہی پہنچائے تھے لیکن امر سنگھ اس سے انکار کرتے ہیں۔ سہیل ہندوستانی پر الزام ہےکہ وہ امر سنگھ اور بی جے پی کے رہنماؤں کے درمیان کڑی کا کام کررہے تھے۔

اسی بارے میں