رحم کی اپیل پر فیصلے میں اتنی تاخیرکیوں؟

سپریم کورٹ
Image caption رحم کی اپیل پر تاخیر کے مسئلے پر سیاسی بحث بھی ہوتی رہی ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ دہشتگردی کے الزام میں موت کی سزا پانے والے دیویندر پال سنگھ بھولرکی رحم کی اپیل پر فیصلہ کرنے میں آٹھ برس سے زیادہ کا عرصہ کیوں لگا ہے۔

بھولر کو 1993 میں ایک بم دھماکے میں نو افراد کو ہلاک کرنے کی پاداش میں دس برس قبل موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کی ایک بنـچ نے بھولر کی بیوی کی ایک درخواست کی سماعت کے بعد مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ دس اکتوبر تک عدالت عظمی کے روبرو اس بات کی وضاحت کرے کہ بھولرکی طرف سے 2003 میں داخل کی گئی رحم کی اپیل پر فیصلہ آٹھ برس کے طویل عرصے کے بعد 2011 میں کیوں ہوا۔

عدالت نے کہا ’ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ ان آٹھ برسوں میں کیا ہوا۔ 2003 اور 2011 کے درمیان کیا ہوا۔‘

بھولر کو ستمبر 1993 میں دلی میں ایک بم دھماکے کے الزام میں ایک خصوصی عدالت نے 2001 میں موت کی سزا سنائی تھی۔ 2002 میں سپریم کورٹ نے موت کی سزا کے خلاف اس کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

بھولر نے جنوری 2003 میں بھارت کے صدر سے رحم کی اپیل کی۔ آٹھ برس کے وقفے کے بعد صدر نے گزشتہ مئی میں اس کی رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی تھی۔

بھولر کی بیوی نونیت کور نے اپنی عرضی میں عدالت سے کہا ہے کہ موت کی سزا ملنے کے بعد رحم کی اپیل پر فیصلہ کرنے میں آٹھ برس لگنے کے سبب بھولر اعصابی بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کا دلی کے ایک اعصابی اور ذہنی ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

نونیت نے کہا ہے کہ پچھلی بار جب وہ اپنے شوہر سے ملی تھیں تو وہ بہت خاموش اورسہمے ہوئے تھے اور بات کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ انھوں نے ‏عدالت سے اپیل کی ہے کہ بھولر کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے۔

انہوں نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ ’ کسی ذہنی مریض کو موت کی سزا دینا غیر انسانی اور بے رحم فعل ہے اور آئین کی دفعہ 21 کے تحت اس کی ممانعت ہے۔‘

دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ بھولر کا معاملہ اب سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ پنجاب کی حکمراں جماعت اکالی دل اور سکھوں کی مذہبی تنظیموں نے بھی صدر جمہوریہ سے اپیل کی ہے کہ وہ رحم کی درخواست پر نظر ثانی کریں۔

بھولرکے معاملے سے پہلے تمل ناڈو اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے صدر مملکت سے اپیل کی تھی کہ وہ سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قاتلوں کی موت کی سزاکو عمر قید میں تبدیل کر دیں۔

اسی قرارداد کے طرز پر پارلیمنٹ پر حملہ کے مجرم افضل گرو کے لیے رحم کی اپیل کرنے کی ایک قراردادپر بدھ کو کشمیر اسمبلی میں بحث ہونی تھی لیکن بی جے پی اور بعض دیگر ارکان کی ہنگامہ آرائی کے سبب اس پر بحث نہ ہو سکی۔

اسی بارے میں