پرانی دلی میں عمارت گرنے سے سات ہلاکتیں

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابھی بھی جائے حادثہ پر امدادای کام جاری ہے

بھارتی دارالحکومت دلی کے فصیل شہر چاندنی محل میں ایک عمارت کے گرنے سے سات افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ حادثہ منگل کی رات کو پیش آیا تھا اور بدھ کو امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ امکان ہے کہ منہدم عمارت کے ملبے تلے مزید لوگ پھنسے ہو سکتے ہیں۔

بدھ کے روز جوائنٹ پولیس کمشنر سدھیر یادیو نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ افراد کی ہلاکت کی رات کو ہی تصدیق ہوگئی تھی اور دو مزید افراد کی لاشیں ملنے کے بعد اس واقعہ میں مرنے والوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

چاندنی محل پرانی دلی کا وہ علاقہ ہے جو جامع مسجد کے پاس ہی واقع ہے۔ یہ علاقہ بہت ہی گنجان آباد ہے۔

عمارت کے منہدم ہونے کے سبب ایک قریبی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس میں بھی کئی لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادای کام جاری ہے لیکن گنجان علاقہ اور تنگ گلیوں کے سبب اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

علاقے کے لوگ اس بات سے سخت ناراض ہیں اور ان کا الزام ہے کہ ایم سی ڈی یعنی میونسپل کارپوریشن آف دلی کی لاپرواہی کے سبب ایسا ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق لوگوں نے اس بوسیدہ عمارت کے متعلق ادارہ سے پہلے بھی شکایت کی تھی لیکن اہلکاروں نے اس سلسلے میں کوئی بھی کارروائي نہیں کی۔

غذا اور سول سپلائی کے ریاستی وزیر ہارون یوسف نے علاقہ کا دورہ کیا ہے اور انہوں نے بھی اس کی ذمہ داری ایم سی ڈي پر عائد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگوں نے اس عمارت کی صورت حال کے متعلق انتظامیہ کو کئی بار آگاہ کیا تھا لیکن پھر بھی کسی نے جانچ تک نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا ’اس المیہ کے لیے ایم سی ڈی براہ راست ذمہ دار ہے۔ اس کا تو بس انتظار ہورہا تھا کیونکہ ایم سی ڈی نے کبھی بھی اس عمارت کی سکیورٹی کو چیک نہیں کیا۔ انہیں صرف پیسہ کمانے کا کام آتا ہے۔‘

اسی بارے میں