افضل گورو کی ’ قرارداد پرمیچ فکسنگ ”

شیخ رشید تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عبدالرشید کی قرارداد ہنگامہ کی نظر ہوگي

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی اسمبلی میں محمد افضل گورو کی سزائے موت کے خلاف معافی کی جس قرارداد پر بحث متوقع تھی، وہ بدھ کو شدید ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پیش نہ ہو سکی ہے۔

اس قرار داد پر بحث ٹل جانے کے بعد ہندنواز سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر بی جے پی کے ساتھ ’میچ فکس” کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ دس سال قبل بھارتی پارلیمان پر ہوئے حملے کی سازش میں ملوث قرار دیے جانے والے افضل گورو کی طرف سے رحم کی اپیل بھی بھارت کی صدرجمہوریہ پرتیبھا سنگھ پاٹل کے پاس زیرغور ہے۔

شمالی کشمیر کے لنگیٹ علاقہ سے منتخب ہوئے آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید نے ایک ’پرائیویٹ ممبر بِل” کے ذریعے اسمبلی سپیکر سے مطالبہ کیا تھا کہ افضل گورو کی سزا معاف کرانے کے حق میں ایوان ایک قرارداد پر بحث کرے اور اس پر زبانی ووٹنگ کرائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسمبلی میں ہنگامہ کر کے قرارداد پر بحث کو روک دیا گيا

سپیکر نےاس درخواست کو منظور کر لیا تھا اور بحث کے لیے اٹھائیس ستمبر کی تاریخ طےکیگئي تھی۔

اسمبلی میں اکیس سیٹوں پر قابض اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے پہلے ہی قرارداد کی حمایت کی تھی، لیکن اس حساس معاملہ پر ستائیس ستمبر کی رات تک بھی حکمران جماعتیں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کوئی فیصلہ نہیں کر پائی تھیں۔

بدھ کی صبح جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو کانگریس اور بی جے پی ایک سال قبل قانون ساز کونسل کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے دوران روپے کے لین دین پر ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہوگئے۔

کانگریس اور بی جے پی کے ممبران سپیکر کے سامنے آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ کاروائی معطل ہوگئی لیکن چالیس منٹ بعد دوبارہ شروع ہوئی تو بی جے پی نے افضل گورو کی قرارداد کو مستردکرنے کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے رہنما اشوک کھجوریہ اپنے دیگر ساتھیوں سمیت شدید نعرے بازی کررہے تھے:’جو مانگے گا پاکستان اس کو ملےگا قبرستان۔'

Image caption افضل گرو کی رحم کی اپیل ابھی صدر کے پاس پڑی ہے

سپیکر نے کاروائی پھر ایک گھنٹے تک ملتوی کردی، لیکن جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا، تو کانگریس کے ممبران نے ایوان میں زبردست ہنگامہ کیا۔ بانیہال حلقہ کے کانگریس ممبر وقار رسول نے ایوان کا فرنیچر تہس نہس کر دیا جبکہ قرارداد لانے والے ممبر شیخ رشید نے بھی ایوان میں رکھے پنکھوں پر نزلہ گرایا۔ انتہائی شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی کے بیچ سپیکر نے اجلاس کو برخاست کردیا۔

عبدالرشید نے الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر کی سبھی ہندنواز جماعتوں نے نئی دلّی کے کہنے پر قرارداد کے خلاف ماحول بنایا اور اس پر بحث کے امکان کو سبوتاژ کیا۔

انہوں نے کہا : ’حکمران کانگریس اور نیشنل کانفرنس کو اپنی کرسی بچانی تھی، لیکن پی ڈی پی نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ سب لوگ دلّی کے غلام ہیں۔”

لیکن پی ڈی پی کے سینیئر رہنما مظفرحسین بیگ نے کہا کہ شیخ رشید دراصل حکمران اتحاد کے حمایتی ہیں۔ مسٹر بیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کانگریس رہنماؤں کے ساتھ ستائیس ستمبر کی رات ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے تحت قرارداد پر بحث کو روکنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں یہ اطلاع ایک ’اندرونی شخص” نے دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمرعبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان ’بہت پرانی اور گہری دوستی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث بعض تمل نوجوانوں کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں بھی اسی طرح کی قرارداد پاس کی گئی تھی اور ملزموں کی پھانسی ٹل گئی۔ اس پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سوالیہ انداز میں ٹوِیٹر پر لکھا تھا کہ ’اگر ہم بھی افضل گورو کے معاملے میں ایسا ہی کریں گے تو کیا بھارت اسی طرح خاموش رہےگا۔''

عمر کے ٹویٹ کے فوراً بعد شیخ رشید نے اسمبلی میں قرارداد لانے کا انکشاف کیا تھا۔ قرار داد لانے والے ممبر شیخ رشید نے عمر عبداللہ کو ’دلی کا غلام” قرار دیا اور کہا کہ اگر حکومت ہند انہیں تیس کے بجائے پینتیس دن کے روزے رکھنے کو کہے تو وہ منع نہیں کرینگے۔

مسٹر رشید نے حریت کانفرنس کی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا:’ اگر حریت والے یہاں ہوتے تو میں اکیلا یہ جنگ نہ ہارتا۔ انہوں نے ایک ماہ سے اس معاملہ پر زبان تک نہ کھولی۔'

اسی بارے میں