کشمیر میں جھڑپیں جاری، نو افراد ہلاک

فائل فوٹو
Image caption ایک فوجی افسر سمیت چار اہل کار بھی مارے گئے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے کپوارہ ضلع میں ’میل یال‘ جنگلات کے قریب پچھلے تین روز سے فائرنگ اور گولہ باری ہورہی ہے جس میں فوجی اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن عبور کرکے چھ یا سات مسلح شدت پسندوں کا ایک گروپ بھارتی علاقہ میں اتوار کو ہی داخل ہوگیا تھا۔

فوج کے مطابق ابھی تک تصادم کے دوران فوجی افسر سمیت چار فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ پانچ مسلح شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی بھی شدت پسند کی لاش تصادم کی جگہ سے نہیں ہٹائی گئی ہے۔

کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے ایک ترجمان کرنل گریوال نے بی بی سی کو بتایا ’یہ پہاڑی علاقہ ہے اور چاروں طرف گھنے جنگل ہیں۔ ہم لوگ پانچ شدت پسندوں کی لاشیں دیکھ رہے ہیں، لیکن وہاں شدت پسند فائرنگ کررہے ہیں اس لئے لاشیں اُٹھانا ابھی ممکن نہیں ہے۔‘

کرنل گریوال نے بتایا کہ دو پولیس اہلکار، ایک فوجی اور جموں کا رہنے والا ایک لیفٹنٹ سُشیل کھجوریہ شدت پسندوں کے ابتدائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑیوں اور وہاں موجود غاروں میں شدت پسندوں نے پناہ لے لی ہے جس کے بعد فوج نے پورے علاقہ کا محاصرہ کرلیا ہے۔

تصادم کی جگہ کپوارہ کے آوتھ کول گاؤں سے تین کلومیٹر کی دُوری پر ہے اور وہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ لیکن فوج نے آوتھ کول کو ہی آپریشن بیس بنایا ہے اور وہاں سے مقامی مرکبانوں کو پہاڑی پر میل یال جنگلات کی طرف سامان ڈھونے کے لیے لیا جارہا ہے۔

آوتھ کول کے رہنےوالے ایک مقامی معلم شمس الدین پیر نے بتایا کہ تین ہزار نفوس پر مشتمل آوتھ کول بستی میں بڑی تعداد میں فوج تعینات کی گئی ہے اور خوف کی وجہ سے بیشتر آبادی نے کپوارہ قصبہ کی طرف ہجرت کرلی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوج نے پورے علاقہ کو گھیر لیا ہے

شمس الدین نے بتایا ’لوگوں کو فوج نے کہا کہ وہ پہاڑی پر ان کے ساتھ چلیں، تاکہ لاشیں اُٹھانے میں ان کی مدد کریں، لیکن لوگ ڈرگئے اور بیشتر نوجوان گاؤں چھوڑ کربھاگ گئے ہیں۔‘

آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹروں کے استعمال کو فی الحال خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کرنل گریوال نے کہا ’جنگل میں چھ سے سات مسلح شدت پسند ہی موجود تھے۔ پانچ تو ہلاک ہوگئے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ مارے گئے شدت پسندوں کی شناخت ابھی ممکن نہیں ہے، لیکن انہیں ملی خفیہ اطلاعات کے مطابق ان کا تعلق کالعدم لشکر طیبہ کے ساتھ ہے۔ ’اب صرف دو لڑرہے ہیں۔ لہٰذا ہیلی کاپٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔‘

فوج کا کہنا ہے کہ اس سال شمالی کشمیر میں مسلح دراندازی کے چھبیس واقعات ہوئے جنکے خلاف فوجی آپریشنوں میں چوبیس مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

دریں اثنا بدھ کی دوپہر کو سرینگر کے بٹہ مالو علاقہ میں نامعلوم پستول برداروں نے بس اڈے کے قریب تعینات پولیس اہلکار غلام محمد کو نزدیک سے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اسی بارے میں