کارٹونسٹ کومودی کا کارٹون مہنگا پڑا

گجرات کے وزیرِاعلی نریند مودی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حزب اختلاف نے ان کے اس برت کو ’ فائیو سٹار فاسٹ‘ قرار دیا تھا

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں ایک مقامی اخبار کے کارٹونسٹ کو وزیراعلٰی نریندر مودی کا کارٹون بنانا مہنگا پڑ رہا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق گجرات کے اندورنِ شہر میں ہریش یادو کو مذہبی جذبات بھڑکانے سےمتعلق ایک قانون کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن عدالت نے انہیں بدھ کے روز دس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا۔

گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور ریاست کے وزیر اعلٰی نریندر مودی نے وہاں حال ہی میں ’سماجی ہم آہنگی‘ کے لیے تین دن تک کھانے پینے سے اجتناب کیا تھا۔

حزب اختلاف نے ان کے اس برت کو ’ فائیو سٹار فاسٹ‘ قرار دیا تھا اور ان کےمطابق نریندر مودی اس شو کے ذریعہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنی دعویداری پیش کر رہے تھے۔

نریندر مودی کو دو ہزار دو کے مذہبی فسادات کے دوران مسلمانوں کی جان بچانے کے لیے خاطرخواہ کارروائی نہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے اور قومی سطح پر زیادہ بڑا سیاسی رول ادا کرنے کے لیے وہ بظاہر اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں مسٹر مودی کا کہنا تھا کہ ریاست کی اقتصادی ترقی سے مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے اور وہ اب ان کے ساتھ ہیں۔

لیکن تقریبات کے دوران جب ایک مسلمان مذہبی رہنما نے انہیں ٹوپی پہنانے کی کوشش کی تو وزیر اعلٰی نے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کردیا کہ ’وہ ٹوپی نہیں پہنتے‘

ہریش یادو نے مودی کے اسی انکار پر کارٹون بنایا تھا جو ان کے اخبار پر بھات کرن میں بیس ستمبر کو شائع ہوا تھا۔ مسٹر یادو ’مصور‘ کا تخلص استعمال کرتے ہیں۔

اس کارٹون میں مسٹر مودی کو برہنہ دکھایا گیا ہے اور ان کے جسم کا پیچھے کا حصہ ایک ٹوپی سے چھپا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب ایک مسلمان مذہبی رہنما نے مودی کو ٹوپی پہنانے کی کوشش کی تو وزیر اعلٰی نے یہ کہہ کر ٹوپی پہنے سےصاف انکار کردیا کہ ’وہ ٹوپی نہیں پہنتے‘

اخبار کے مدیر نے پولیس کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے اظہار خیال کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ کارٹون میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس کارٹون کے خلاف کچھ مسلمانوں نے اعتراض کیا تھا۔ کارٹون میں جو ٹوپی دکھائی گئی تھی اس پر چاند اور ستارے بنے ہوئے تھے۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق مہاراج گنج پولیس سٹیشن کے انچارج سریش سیجوال نے کہا کہ مسٹر یادو کے خلاف ’دانستہ طور پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے‘ کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ لیکن اخبار کے مالک پرکاش پروہیت کا دعوی ہے کہ اعتراض کرنے والے لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقلیتی سیل کے ارکان ہیں جو اظہار آزادی کے حق کو کچلنا چاہتے ہیں۔

اخبار نے اس کارٹون کے لیے معافی مانگ لی ہے۔ لیک مسٹر پروہت نے کہا کہ کارٹون سے مصور یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ مسٹر مودی نے ٹوپی نہ پہن کر اپنی شبیہہ کو سدھارنے کا آخری موقع ضائع کردیا ہے۔