تمل ناڈو: 259 ملزمان پر جرائم ثابت

فائل فوٹو
Image caption سترہ افراد پر ریپ کا جرم ثابت ہوا ہے جبکہ باقی کو دلتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا ہے

بھارت کی ریاست تمل ناڈو کی ایک ذیلی عدالت نے قبائلیوں کے ساتھ زیادتی، اجتماعی ریپ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ایک بیس سال پرانے کیس میں دو سو انسٹھ ملزمان کو مختلف جرائم کا مرتکب قرار دے دیا گیا ہے۔

سترہ افراد پر ریپ کا جرم ثابت ہوا ہے جبکہ باقی کو دلتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔

یہ کیس انیس سو بانوے کا ہے جب دھرما پوری کےجنگلات میں ایک خصوصی ٹاسک فورس بدنام زمانہ سمگلر ویرپن کو تلاش کر رہی تھی۔ ٹاسک فورس میں پولیس کے علاوہ محکمہ جنگلات کے اہلکار بھی شامل تھے۔

اس کیس میں محکمہ جنگلات کے نوے اہلکاروں کو ملزم بنایاگیا تھا جن میں سے نو پر ریپ کا جرم ثابت ہوا ہے۔ کیس کی تفتیش مرکزی تفتیشی بیورو نے کی تھی اور اس نے دو سو انسٹھ افراد کو نامزد کیا تھا لیکن ان میں سے چون کی دورانِ مقدمہ ہی موت ہوگئی تھی۔

خصوصی عدالت جلدی ہی سزاؤں کا اعلان کرے گی۔

وچاتی قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے محکمہ جنگلات اور پولیس افسران کے ڈھائی سو اہلکاروں پر ایذارسانی اور ریپ کا الزام لگایا تھا۔ جنسی زیادتی کے اٹھارہ مقدمے درج کیےگئے تھے جبکہ تقریباً سو لوگوں کو زد و کوب کیا گیا تھا۔

جون انیس سو بانوے میں ٹاسک فورس کے اہلکار ویرپن کی تلاش میں وچاتی گاؤں میں داخل ہوئے تھے اور عورتوں کو ان کےگھروں اور کھیتوں سے پکڑ کر پہلے ان کے ساتھ مار پیٹ اور اس کے بعد انہیں فاریسٹ رینجر کے دفتر میں لے جاکر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس کیس میں قومی انسانی حقوق کمیشن نے کافی دلچسپی لی تھی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں عدالتی کارروائی میں تاخیر پر اپنی تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں۔