بی جے پی کا اجلاس، نریندر مودی غیر حاضر

نریندر مودی
Image caption نریندر مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم لیڈر ہیں

گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کا بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ وہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ناراض ہیں۔

پارٹی کا اجلاس جمعہ کو دلی میں ہو رہا ہے جس میں کئی ریاستوں میں عنقریب ہونے والے اسمبلی انتخابات اور بدعنوانی کے مسئلہ پر وفاقی حکومت کے خلاف حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے صدر نتن گڈکری نے کہا کہ ٹو جی سکیم میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں لیکن پھر بھی سی بی آئی کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

گڈکری کی تقریر کی تفصیلات بتاتے ہوئے پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے کہا کہ ’پی چدمبرم کے خلاف بھی اتنے ہی ٹھوش شواہد موجود ہیں جتنے سابق وفاقی وزیر اے راجہ کے خلاف ہیں، لہذا انہیں بھی راجہ کےساتھ جیل میں ہونا چاہیے۔‘

مسٹر گڈکری نے یہ اعلان بھی کیا کہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے بعد اگر پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کر پاتی تو حکومت سازی کے لیے’ بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی سے کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘

بی جے پی ماضی میں کئی مربتہ بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کر کے اتر پردیش میں حکومت کی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں کئی دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ نریندر مودی اس اجلاس میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ وہ پارٹی کے سینیئر لیڈر لال کرشن ایڈوانی کی مجوزہ رتھ یاترا سے ناراض ہیں۔ ایڈوانی نے بدعنوانی کے خلاف یاترا شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جسے مبصرین وزیراعظم کے عہدے کے لیے ان کی دعویداری سے منسوب کر رہے ہیں۔

اگرچہ مسٹر مودی کا کہنا ہے کہ وہ ’نوراتروں کے برت‘ کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے لیکن عام تاثر یہ ہی ہے کہ وہ مسٹر اڈوانی سے ناراض ہیں کیونکہ وہ خود کو بھی وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اسی کوشش میں انہوں نے احمد آباد میں حال ہی میں ’سماجی آہنگی‘ کے لیے تین دن کا برت بھی رکھا تھا۔ اس پوری تقریب میں انہوں نے خود کو ایک ایسے لیڈر کےطور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی جو قومی سیاست میں اب زیادہ اہم ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

بتایاجاتاہے کہ مودی مسٹر ایڈوانی کے اس فیصلے سے بھی ناراض ہیں کہ یاترا اب گجرات سےنہیں بلکہ بہار سے شروع ہوگی۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے کافی مشقت کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ اور اپنے اتحادی نتیش کمار کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ مسٹر ایڈوانی کی یاترا کو روانہ کریں۔

نتیش کمار کسی بھی ایسی تقریب میں شرکت نہیں کرتے جس میں مسٹر مودی بھی شامل ہوں کیونکہ وہ بہار میں اپنے مسلمان ووٹروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے جو کافی بڑی تعداد میں ان کی حمایت کرتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مسٹر نتیش کمار اس یقین دہانی کے بعد ہی یاترا کو روانہ کرنے کے لیے تیار ہوئے ہیں کہ اس تقریب میں نریندر مودی شامل نہیں ہوں گے۔

بی جے پی کی اعلیٰ قیادت میں مسٹر مودی کو ارون جیٹلی کی حمایت حاصل ہے لیکن سشما سواراج ان کے مخالف کیمپ میں ہیں کیونکہ وہ خود وزیر اعظم کے عہدے کی امیدوار ہیں۔

اسی بارے میں