مودی کے خلاف بیان، پولیس افسر گرفتار

سنجیو بھٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنجیو بھٹ کو ان کے عہدے سے پہلے ہی معطل کردیا گیا تھا

بھارت کی ریاست گجرات میں اعلیٰ پولیس افسر سنجیو بھٹ کو وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف گواہی دینے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ان پر ایک پولیس افسر کو غلط بیانی پر مجبور کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

سنجیو بھٹ کو ان کے گھر سے باکھ لوگیا پولیس سٹیشن لے جایا گیا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس سنجیو بھٹ نے اپریل میں سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے ایک بیان حلفی میں الزام لگایا تھا کہ 2002 کے فسادات کے دوران نریندر مودی نے ایک میٹنگ میں مبینہ طور پر اعلیٰ افسروں سے کہا تھا کہ ’وہ ہندو فسادیوں کے خلاف کارروائی نہ کریں اور انہیں مسلمانوں کے خلاف اپنا غصہ نکالنے دیں۔‘

سنجیو بھٹ اس وقت احمد آباد میں انٹیلی جنس کے سربراہ تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس میٹنگ میں ان کے ساتھ ان کے ایک ماتحت افسر بھی موجود تھے۔ ان کی گرفتاری اسی ماتحت افسر کی شکایت پر عمل میں آئی ہے۔ اس افسر نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی ہے کہ مسٹر بھٹ نے انہیں مسٹر مودی کے خلاف جھوٹا بیان دینے کے لیے مجبور کیا تھا۔

سنجیو بھٹ کو گجرات حکومت نے گزشتہ مہینے غیر منطور شدہ چھٹی لینے اور سرکاری گاڑی کے غلط استعمال کا الزام لگا کر معطل کر دیا تھا۔

سنجیو بھٹ کی گرفتاری متوقع تھی کیونکہ ان کے خلاف کئی سال پرانے کچھ معاملات بھی سامنے لائے گئے تھے۔

ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے ۔

گجرات میں فسادات سے متاثرہ افراد کی نمائندگی کرنے والے والے وکیل مکل سنہا نے کہا کہ انہیں بھٹ کی گرفتاری پر کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔’گجرات میں جس افسر نے بھی فسادات کے سلسلے میں حکومت پر انگلی اٹھائی ہے اسے سزا دی گئی ہے۔‘

حقوق انسانی کی کارکن تیستا سیتلواڈ نے کہا ہے کہ واضح طور پر حکومت کی انتقامی کارروائی ہے۔’سنجیو کو گرفتار کرنے کے لیے ایک ایسا دن اور وقت چنا گیا ہے جب وہ اپنی رہائی کے لیے فوری طور پر عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔‘

حال میں سپریم کورٹ نے احمد آباد کے فسادات کا ایک معاملہ گجرات کی ذیلی عدالت کو سونپ دیا تھا۔ یہ عدالت یہ طے کرے گی کہ اس مخصوص معاملے میں مسٹر مودی کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس مقدمے میں درخواست گزار اور متاثرین کے علاوہ سنجیو بھٹ بھی ایک اہم گواہ ہیں۔

سنجیو بھٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک جونئیر افسر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ نریندر مودی کے خلاف حلف نامہ داخل کریں۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سنجیو بھٹ کے ایک ساتھی بی کے پنت نے بھی نریندر مودی کے خلاف حلف نامہ داخل کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ حلف نامہ ان پر دبا‎‎ؤ ڈال کر داخل کروایا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ سنجیو بھٹ ان کے سینیئر افسر تھے اس لیے بی کے پنت حلف نامہ داخل کرنے سے انکار نہیں کر سکے۔

اسی بارے میں