افضل گُرو: پھانسی کےخلاف مُہم

افضل گرو
Image caption افضل گرو دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں

بھارتی پارلیمان پر دس سال پہلے ہوئے مسلح حملے میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل گُرو کے حق میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی ہند نواز اور ہندمخالف تنظیموں نے ’افضل بچاؤ‘ مُہم شروع کردی ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے اس حوالے سے وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں ایک احتجاجی ریلی کی قیادت کی۔

یٰسین ملک کا کہنا ہے کہ بھارت میں جو حلقے افضل گورو کی پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ دراصل کشمیر کو ایک بار پھر مسلح شورش کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

اُنیس سو اٹھانوے میں ایک بھارتی طیارہ کے اغواء کا حوالہ دیتے ہوئے یٰسین ملک نے کہا ’اُنیس سو چوراسی میں جب کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کو پھانسی پر لٹکایا گیا، تو یہاں اُس وقت کی نوجوان نسل میں اشتعال پیدا ہوگیا تھا جو بالآخر مسلح شورش کے رُوپ میں سامنے آیا۔ کیا آپ لوگ وہی آگ دوبارہ بھڑکانا چاہتے ہو؟‘

دریں اثنا اٹھائیس ستمبر کو ریاست کی قانون ساز اسمبلی میں افضل گُرو کے حق میں قرارداد پر بحث ٹل جانے کے بعد سیاسی گروپوں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا۔ قرارداد پیش کرنے والے رکن اسمبلی عبدالرشید نے کہا ’حکومت ہند نے عمرعبداللہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی سے ہٹایا جائے۔ اس لئے انہوں نے ایک ڈرامہ رچایا اور قرارداد پیش نہ ہوسکی۔‘

بعد میں عبدالرشید نے اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا۔

سنیچر کو انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ’جب تک اسمبلی میں افضل گُرو کی معافی کے حق میں قرارداد پر بحث کی اجازت نہیں دی جاتی میں اس ایوان میں نہیں جاؤں گا۔‘

قرار داد پر بحث کے لیے مؤثر کردار ادا نہ کرنے پر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے بھی ہند نواز جماعتوں پر تنقید کی ہے۔

سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا ’افضل گُرو نے حتمی فیصلہ ہونے تک تہاڑ جیل سے سرینگر جیل منتقلی کی درخواست کی تھی، لیکن وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس درخواست کو مسترد کردیا۔‘

افضل گُرو کو عدالت نے تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو بھارتی پارلیمان پر ہوئے مسلح حملہ کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔ افضل گُرو اور ان کی اہلیہ کی طرف سے رحم کی اپیل بھارت کے صدر کے پاس زیرِغور ہے۔ حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے پہلے ہی انہیں سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔

گو حکمران نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر اس قرارداد کو ناکام کرنے کا الزام ہے، پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے بتایا ’پچھلے سال پولیس اور فورسز نے ایک سو بیس نوجوانوں کا قتل کیا۔ ان میں سے کس کو پھانسی دی گئی، جو آپ کو افضل کو پھانسی دینے کی جلدی ہے۔‘

اسی بارے میں