’میرے شوہر کی جان کو خطرہ ہے‘

سنجیو بھٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنجیو بھٹ نے نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھائی تھی

گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے متنازعہ وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھانے والے سینیئر پولیس افسر سنجیو بھٹ کی اہلیہ نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کی جان خطرے میں ہے۔

سنجیو بھٹ کو جمعے کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ماتحت افسر کو ڈرا دھمکا کر اُن سے جھوٹی گواہی دلوائی تھی۔

لیکن احمدآباد کے پولیس کمشنر شرد سنہا نے کہا کہ سنجیو بھٹ کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن پھر بھی سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق انہیں تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

نریندر مودی پر الزام ہے کہ آٹھ سال پہلے گجرات کے فسادات کے دوران انہوں نے پولیس کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ نہ کریں۔ سنجیو بھٹ سینئر پولیس افسر ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ اس وقت میٹنگ میں موجود تھے جب نریندر مودی یہ حکم جاری کر رہے تھے۔

سنجیو بھٹ اس بارے میں ایک حلف نامہ سپریم کورٹ میں بھی داخل کرا چکے ہیں۔ اسی حلف نامے کے سلسلے میں ایک جونیئر پولیس افسر نے کہا ہے کہ سنجیو بھٹ نے انہیں ڈرا دھمکا کر ان سے اپنے موقف کی تائید کروائی تھی۔

اپنی گرفتاری سے چند روز قبل سنجیو بھٹ نے گجرات ہائی کورٹ میں بھی ایک حلف نامہ داخل کر کے کہا تھا کہ ریاست کے سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل میں بھی نریندر مودی نے شواہد کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔ ہرین پانڈیا بھی بی جے پی کے لیڈر تھے جن کے نریندر مودی سے اختلافات ہوگئے تھے۔ خود ہرین پانڈیا کے اہل خانہ بھی نریندر مودی کی طرف انگلی اٹھاتے رہے ہیں۔

شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن تیستا سیتلواد کہتی ہیں کہ ’نریندر مودی انتقامی کارروائی کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ گجرات کے فسادات کے سلسلے میں عدالت میں ان کے خلاف فرد جرم عائد ہوسکتی ہے۔‘

لیکن بی جے پی کے سینئر لیڈر بلبیر پنچ نے کہا کہ صرف مودی کے خلاف الزام لگانے کی وجہ سے کوئی شخص قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہوسکتا اور یہ کہ سنجیو بھٹ کے خلاف کارروائی بالکل جائز ہے۔

جواب میں کانگریس کے ترجمان ابھی شیک منوسنگھوی نے کہا کہ نریندر مودی ایک آمر کی طرح کام کر رہے ہیں۔

’گجرات میں بی جے پی کی آمریت صاف نظر آرہی ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ اس افسر کو مسٹر مودی کے کارناموں کا پردہ فاش کرنے کے فوراً بعد نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اور یہ سب ایک جونیئر افسر سے الزامات لگوا کر؟ ان کے گھر پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اور ان سے کسی کو ملنے بھی نہیں دیا جارہا۔‘

سماجی کارکن اور مشہور کلاسیکل ڈانسر ملکا سارا بھائی نے کہا کہ گجرات کی حکومت کی اس کارروائی کے خلاف ان سب کو آواز اٹھانی چاہیے جو سچائی میں یقین رکھتے ہیں اور خود سنجیو بھٹ کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس بتانے کے لیے بہت کچھ ہے لیکن وہ پولیس کی تحویل میں ہونے کی وجہ سے ابھی کچھ نہیں کہیں گے۔

اسی بارے میں