تیلنگانہ کی حمایت میں راجگھاٹ پر دھرنا

تیلنگانہ کے لیے احتجاج کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تیلنگانہ ریاست کی حمایت میں آندھرا پردیش میں گزشتہ بیس دنوں سے ہڑتال جاری ہے

ریاست آندھرا پردیش میں علیحدہ ریاست تیلنگانہ کے قیام کے لیے ریاست میں گزشتہ بیس دنوں سے جاری ہڑتال کے دوران دلی کے راجگھاٹ پر دھرنا شروع ہوگیا ہے۔

تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے سربراہ چندر کے شیکھر راؤ نے دلی کے راجگھاٹ پر دھرنا شروع کیا ہے۔

کے چندرشیکھر راؤ اتوار کی دوپہر اپنے بعض حمایتوں کے ساتھ مہاتما گاندھی کی سمادھی پر پہنچے ہیں اور کچھ گھنٹوں کے لیے دھرنے میں بیٹھے ہیں۔

واضح رہے کہ دو اکتوبر کو گاندھی کی یوم پیدائش کے موقع پر ان کی سمادھی پر یہ دھرنا شروع کیا گیا ہے۔

سنیچر کو تمام سیاسی پارٹیوں کے اہم لیڈر گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے راجگھاٹ پہنچے تھے۔

کے چندرشیکھر راؤ اور تیلنگانہ ریاست کے حصول کے لیے قائم جوائنٹ ایکشن کمیٹی دلی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کی لیڈر سشما سوراج سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔

انگریزی اخبار’دا ہندو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کے چندرشیکھر راؤ نے کے بیٹے نے کہا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کرن راؤ مرکزی حکومت کو دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں جبکہ ریاست میں حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ اگر احتجاج زیادہ بڑھ گیا تو حالات پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔‘

دریں اثناء مرکزی وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ علیحدہ ریاست کے قیام پر بات چیت ہونی چاہیے۔

سنیچر کو دلی میں اس مسئلے پر پرنب مکھرجی، وزیر صحت غلام نبی آزاد اور سونیا گاندھی کے سیاسی صلاح کار احمد پٹیل کی ایک میٹنگ ہوئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق غلام نبی آزاد اسی سلسلے میں اتوار کو آندھرا پردیش کے دورے پر گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ریاست آندھر پردیش میں تیلنگانہ کے حامی دارالحکومت حیدر آباد اور اس کے آس پاس کے دس اضلاع پر مشتمل علاقے میں ایک الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ کافی پرانا ہے لیکن کافی احتجاج کے بعد مرکزی حکومت نے علحیدہ ریاست کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم کئی برس گزرنے کے بعد بھی اس سمت اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور اسی لیے ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں