کشمیر:’ہتک آمیز بیانات پر مقدمہ ہوگا‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر اسمبلی میں ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوئی ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی جماعت کے ایک کارکن کی ہلاکت سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کو ہتک آمیز قرار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپوزیشن جماعت پی ڈی پی کے الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ وہ ان افراد کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے جو ان پر جھوٹا الزام لگاتے رہے ہیں۔

چند روز قبل عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل پارٹی پارٹی کے ایک کارکن حاجی محمد یوسف کی پولیس حراست میں موت ہوگئی تھی۔

یوسف عمر عبداللہ سے ملنے ان کے گھر پرئے تھے اور وہیں سے پولیس نے انہیں حراست میں لیا تھا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

حاجی محمد یوسف عبداللہ خاندان سے اپنے قریبی تعلقات کے لیے جانے جاتے رہے ہیں اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بعض معاملات پر اختلافات کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا اور راز چھپانے کے لیے انہیں قتل کر دیا گيا۔

سری نگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بارے میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس سلسلے میں غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’جو بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں وہ ہتک آمیز ہیں اور اس کا جواب میں نہیں بلکہ میرے وکیل عدالتی کارروائی سے دیں گے۔ اس بارے میں غلط بیانی سے کام لیا جا رہا ہے اور میں میڈیا سے بھی کہوں گا کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لے۔‘

عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ذمہ داری کا ثبوت دیا اور جیسے ہی یہ معاملہ سامنے آیا تھا عدالتی تحقیق کا حکم دیا گیا تھا۔’ اگر مجھے اس میں کچھ بھی چھپانا ہوتا تو میں اس طرح کے اقدامات نہیں کرتا۔ میں خود عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں۔‘

پی ڈی پی کی رہنماء محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ حاجی یوسف جب عمر عبدللہ کے مکان سے باہر نکلے تو وہ چلنے لائق نہیں تھے اس لیے پولیس انہیں گاڑی میں اٹھا کر لے گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیسوں کے لین دین کا معاملہ ہے اور جب حاجی یوسف نے دھمکی دی کہ وہ راز کھل دیں گے تو انہیں راستے سے ہٹا دیا گيا۔’عمر عبدللہ خود اس میں ملوث ہیں۔ ان کے رہتے ہوئے اس معاملے کی منصفانہ جانچ ممکن نہیں ہے اس لیے انہیں استعفی دیدینا چاہیے۔‘

پیر کو اسی مسئلے پر ریاستی اسمبلی میں اس وقت زبردست ہنگامہ شروع ہوا جب ایک رکن اسمبلی افتخار انصاری نے اسمبلی سپیکر پر قریب میں رکھا پنکھا اٹھا کر پھینکنے کی کوشش کی۔

جب اس مسئلے پر سپیکر نے بولنے کی اجازت نہیں دی تو تلخ کلامی ہوئی جس پر سپیکر نے مولانا افتخار کے لیے بعض نازیبا کلمات کہے۔ اس پر ناراض ہوکر مولانا نے پنکھا ان پر پھینکنے کی کوشش کی۔

سپیکر نے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا تھا اور بعد میں انہوں نے اس کے لیے معافی مانگی اور کہا انہیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں