افسر کے خلاف کارروائی انتقامی ہے

سنجیو بھٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنجیو بھٹ کہتے ہیں کہ وہ انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں اور یہ مشکل کام ہے

گجرات میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیر اعلٰی نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھانے والے سینئر پولیس افسر سنجیو بھٹ کے خلاف انتقامی جذبہ کے تحت کارروائي کی گئی ہے۔

ریاست میں کانگریس پارٹی کے رہنماء شنکر سنگھ واگھیلا نے سنجیو بھٹ کی اہلیہ اور بچوں سے ملاقات کی ہے اور ان کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے ’حکومت ہٹلر والی ذہنیت رکھتی ہے، وہ سینئر افسر جو حکومت کے وفادار رہے ہیں ان میں سے کئی ایک پہلے ہی جیل میں ہیں اور جس نے سچائی کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش کی ہے اسے بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خاندان والوں کو ذہنی اذیت پہنچانا انتہائی غیر انسانی سلوک ہے۔‘

واگھیلا کا کہنا تھا کہ مودی کی حکومت اپنے آپ پر نکتہ چینی برداشت نہیں کرتی ہے اور جو بھی سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے اس کو پریشان کیا جاتا ہے۔

ادھر سنجیو بھٹ کی ضمانت کی درخواست کل سماعت ہونے والی ہے۔ اس سے پہلے عدالت نے اس سلسلے میں ان کی درخواست کو تسلیم کر لیا تھا۔

جمعہ کے روز میٹروپولیٹن کورٹ نے ان کے سات دن کے ریمانڈ کے لیے پولیس کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ عدالت کا یہ قدم مودی کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو سنجیو بھٹ کو جیل میں رکھنا چاہتی ہے۔

سنجیو بھٹ کو گزشتہ جمعہ کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ماتحت افسر کو ڈرا دھمکا کر اُن سے جھوٹی گواہی دلوائی تھی۔

سنجیو بھٹ کی اہلیہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ان کے شوہر کی جان خطرے میں ہے۔ انہوں نے اپنے لیے بھی سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا۔

لیکن احمدآباد کے پولیس کمشنر شرد سنہا نے کہا کہ سنجیو بھٹ کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن پھر بھی سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق انہیں تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

نریندر مودی پر الزام ہے کہ آٹھ سال پہلے گجرات کے فسادات کے دوران انہوں نے پولیس کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ نہ کریں۔ سنجیو بھٹ سینئر پولیس افسر ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ اس وقت میٹنگ میں موجود تھے جب نریندر مودی یہ حکم جاری کر رہے تھے۔

سنجیو بھٹ اس بارے میں ایک حلف نامہ سپریم کورٹ میں بھی داخل کرا چکے ہیں۔ اسی حلف نامے کے سلسلے میں ایک جونیئر پولیس افسر نے کہا ہے کہ سنجیو بھٹ نے انہیں ڈرا دھمکا کر ان سے اپنے مؤقف کی تائید کروائی تھی۔

اپنی گرفتاری سے چند روز قبل سنجیو بھٹ نے گجرات ہائی کورٹ میں بھی ایک حلف نامہ داخل کر کے کہا تھا کہ ریاست کے سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل میں بھی نریندر مودی نے شواہد کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔

ہرین پانڈیا بھی بی جے پی کے لیڈر تھے جن کے نریندر مودی سے اختلافات ہوگئے تھے۔ خود ہرین پانڈیا کے اہل خانہ بھی نریندر مودی کی طرف انگلی اٹھاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں