کشمیر: عمر عبداللہ کا سیاسی مستقبل مخدوش

عمر عبداللہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اپوزیشن پی ڈی پی نے شہر کی سڑکوں پر آ کر ’گو عمرگو‘ کا نعرہ بلند کیا

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں ایک سیاسی مصالحت کار کی مبینہ حراستی ہلاکت کے بعدایک بار پھر حزبِ اختلاف نے وزیرِ اعلٰی عمرعبداللہ کو اقتدار سے ہٹانے کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔

عمر عبداللہ کے اقتدار میں شریک کانگریس کی اعلٰی قیادت کے حالیہ بیانات سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ درپیش نہیں، لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اس بار اگرعمر عبداللہ کی حکومت بچ بھی گئی تو ان کا سیاسی مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیرِاعلٰی عمر عبداللہ اڑھائی سالہ اقتدار کے دوران ہر طرح کی سیاسی مشکلوں میں محصور رہے ہیں۔

جنوری سنہ دو ہزار نو میں اپنے اقتدار کا آغاز کرتے ہی انہیں اپنی ہی رہائش گاہ کے باہر ذہنی طور پر معذور ایک عمر رسیدہ شہری کی ہلاکت کا سامنا ہوا۔

بعد ازاں شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں فوج کے ہاتھوں تین نوجوانوں کی ہلاکت پر دس روز تک مظاہرے ہوئے۔

کچھ ہفتے بعد اسمبلی میں اپوزیشن رہنما مظفرحسین بیگ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا کہ وزیراعلٰی عمر عبداللہ دراصل بھارت کی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے ذریعہ بنائی گئی ملزمان کی اس فہرست میں شامل ہیں، جن پر کم سن لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کا الزام ہے۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے اس پر وزیرِاعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، لیکن بھارتی وزیرِداخلہ پی چدامبرم نے پریس کانفرنس میں عمر عبداللہ کی حمایت کردی اور دوسرے روز سی بی آئی نے انہیں کلین چِٹ دے دی۔

Image caption اڑھائی سالہ اقتدار کے دوران عمر ہر طرح کی سیاسی مشکلوں میں محصور رہے

عمرعبداللہ ابھی اطمینان کا سانس ہی لے رہے تھے کہ جنوبی قصبہ شوپیان میں سترہ سالہ آسیہ اور ان کی نند نیلوفر پراسرار حالات میں اپنے گھر کے قریب ایک ندی میں مردہ پائی گئیں۔

مبینہ طور اغواء اور جنسی زیادتی کے اس معاملہ پر پورے کشمیر میں زبردست احتجاج ہوا جس کے دوران متعدد افراد مارے گئے اور شوپیان میں دو ماہ تک ہڑتال کی گئی تاہم ابھی بھی اس کیس میں لواحقین کو انصاف نہیں ملا ہے۔

اس سانحہ کے بعد وقفہ وقفہ سے وادی میں مظاہرے ہوتے رہے اور پولیس کی فائرنگ میں کم سن لڑکے بھی ہلاک ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ مئی سنہ دو ہزار دس میں فوج نے بارہمولہ کے تین نوجوانوں شہزاد، شفیع اور ریاض کو اغواء کرنے کے بعد انہیں کپوارہ کے مژھل سیکڑ میں ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کر دیا۔

کشمیر میں پھر سے مظاہرے ہوئے اور یکا یک پورا کشمیر سراپا احتجاج بن گیا۔ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائیوں میں ایک سو بیس افراد مارے گئے۔

اس صورتحال پر بھی پی ڈی پی نے عمرعبداللہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا لیکن پی چدامبرم اور راہول گاندھی نے وزیرِاعلٰی کی کھل کر حمایت کی۔ ہلاکتوں کے ردِعمل میں حکومت نے ایک صحافی، ایک دانشور اور ایک سابق افسر پر مشتمل مذاکرات کاروں کی ٹیم تشکیل دی ۔ ایک سو بیس ہلاکتوں پر کسی سے بھی جواب طلبی نہیں کی گئی۔

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں پانچ ہزار نوجوانوں کے خلاف مقدمے دائر کرنے اور سینکڑوں کو جیل بھیجنے کے بعدحالات پر قابو پایا گیا ہے۔ لیکن اس سال افضل گورو کی پھانسی اورگمنام قبروں کی دریافت سے عمرعبداللہ علیٰحدگی پسندوں کی تنقید کا نشانہ بنے۔

گو کہ گمنام قبروں اور افضل گورو کے معاملات بہت سنسنی خیز تھے، سیاسی کرپشن کا ایک تازہ معاملہ اس قدر پیچیدہ ہورہا ہے، کہ اڑھائی سال میں پہلی مرتبہ اپوزیشن پی ڈی پی نے شہر کی سڑکوں پر آ کر ’گو عمرگو‘ کا نعرہ بلند کیا۔

Image caption عمر عبداللہ کا اڑھائی سالہ دور تنازعات کا شکار رہا ہے

حزب اختلاف کی جماعت پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ عمرعبداللہ نے جنوبی کشمیر کے رہنے والے اپنے ساتھی اور پارٹی کارکن سید محمد یوسف کو اپنے گھر طلب کیا تھا، جہاں اکسٹھ سالہ سید یوسف کو زدکوب کیا گیا اور ان کی موت ہوگئی۔ لیکن معاملہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔

سید یوسف دراصل ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے لین دین کے سلسلے میں وزیراعلٰی کے گھر گئے تھے، جہاں وزیرِاعلٰی عمر عبداللہ کو معلوم ہوا کہ سید یوسف نے دیگر پارٹی کارکنوں سے بھاری رقومات اکھٹی کی تھیں، اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ کی مدد سے انہیں وزیر یا اسمبلی کی رکنیت دلوائیں گے۔

اس معاملہ کی عدالتی تفتیش ہو رہی ہے، جبکہ کانگریس کے دگ وجے سنگھ اور غلام نبی آزاد نے اپوزیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ تفتیش کے نتائج کا انتظار کریں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں کانگریس پارٹی کئی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، لہٰذا اعلٰی قیادت کشمیر میں کسی سیاسی تبدیلی کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔

اسی بارے میں