دلی ہائی کورٹ دھماکہ: ایک اورگرفتاری

دھماکے کے بعد پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے سکیچ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سے قبل دلی پولیس نے تین نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تھا

گزشتہ ماہ دلی ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے سلسلےمیں قومی تفتیشی بیورو یعین این آئی اے نے ایک اور کشمیری طالب علم کوگرفتار کیا ہے جسے حملے کی سازش کی ایک ’اہم کڑی‘ بتایا جارہا ہے۔

اس بارے میں ابھی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ وسیم کو ہندوستان میں ہی حراست میں لیا گیا ہے یا انہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارتی حکام کے سپرد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ گرفتار شدہ شخص کا نام وسیم ہے اور وہ بنگلہ دیش میں یونانی طریقہ علاج کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

دلی ہائی کورٹ کے باہر سات ستمبر کو طاقتور دھماکہ ہوا تھا جس میں پندرہ افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ این آئی اے ابھی تک اس کیس کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وزیر داخلہ پی چدمبرم نے چند روز قبل کہا تھا کہ کیس ابھی حل تو نہیں ہوا ہے لیکن کچھ اچھے سراغ ضرور ملیں جن کی بنیاد پر تفتیش کی جارہی ہے۔

دھماکوں کے بعد این آئی نے کشمیر سے تین نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا جن میں سے ایک کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کے مطابق وسیم سے جنید اکرم نامی ایک مبینہ شدت پسند کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جنید حزب المجاہدین سے واسبتہ ہیں اور انہوں نےدھماکوں کی سازش تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

دھماکے کے بعد دلی میں اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے دفاتر کو ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں دھماکوں کے لیے بظاہر حرکت الجہاد الاسلامی کی جانب سے ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ لیکن بتایاجاتا ہے کہ اب تفتیش کار اس تھیوری پر کام کر رہے ہیں کہ اس واقعہ میں حزب المجاہدین کا ہاتھ تھا۔

پی ٹی آئی کے مطابق تفتیش کاروں کو وسیم کے بارے میں معلومات حزب کے ایک کارکن اظہر علی نے فراہم کی تھی جو دو ہزار نو سے جموں کی کوٹ بلول جیل میں بند ہے۔

اگرچہ این آئی اے کے اہلکار وسیم اکرم کے بارے میں رازداری سے کام لے رہے ہیں لیکن انہوں نے خبر رساں اداروں کو انتا ضرور بتایا ہے کہ ان کا تعلق کشمیر کے کشتواڑ علاقے سے ہے۔

واضح رہے کہ اس برس پچیس مئی کو بھی دلی ہائی کورٹ کے اسی علاقے میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد حکام نے سکیورٹی بڑھانے کی سفارشات کی تھیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوا تھا۔