گجرات: سنجیو بھٹ کو ضمانت نہیں ملی

سنجیو بھٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنجیو بھٹ کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا

بھارت کی ریاست گجرات میں ایک ذیلی عدالت سے وزیراعلٰی نریند مودی کے خلاف بیان دینے والے پولیس افسرسنجیو بھٹ کو جمعہ کو بھی ضمانت نہیں مل سکی ہے ۔

ان کی درخواست کی سماعت پیر کو بھی جاری رہے گی ۔

انہیں اپنے ایک ماتحت کو جھوٹا بیان دینے کے لیے مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔

سنجیو بھٹ کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے اپنی دلیل مکمل کر لی ہے اور عدالت سے کہا ہے کہ چونکہ ان کے موکل ایک سینئر پولیس افسر اور سرکاری ملازم ہیں اس لیے ان کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ کیس دستاویزی ثبوتوں کا ہے جس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی اس لیے انہیں صمانت پر رہا کیا جانا چاہیئے ۔

سرکاری وکیل نے انہیں رہا کرنے کی مخالفت کی ہے ۔ لیکن ابھی ان کی دلیل مکمل نہیں ہو سکی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اب پیر کو زیر سماعت آئے گا۔مسٹر بھٹ تیس ستمبر سے جیل میں ہیں ۔

ریاستی حکومت نے یہ کہہ کر ضمانت کی مخالفت کی تھی کہ چونکہ پولیس نے مسٹر بھٹ کو تحویل میں لینے کے لیے ایک دیگر عدالت میں عرضی داخل کی ہے اس لیے ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک ان کی درخواست پر غور نہ کیا جائے ۔

سنجیو بھٹ نے صمانت کی درخواست اس بنیاد پر دی ہے کہ ان کی گرفتاری سیاسی محرکات پرمبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ماتحت کانسٹبل کے ڈی پنٹ جنہون نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے اور جس کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے وہ اپنا بیان کئی بار بدل چکے ہیں اوروہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔

اس دوران احمد آباد کی ایک ديگر سشن عدالت نے مسٹر بھٹ کو ریمانڈ میں دینے کی پولیس کی درخواست کی سماعت 10 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی ۔ مسٹر بھٹ کو 30 ستمبر کو گرفتار کیے جانے کے بعد پولیس نے انہیں سات دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دینے کی درخواست کی تھی لیکن مجسٹریٹ نے انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا تھا ۔ پولیس نے مجسٹریٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے

منگل کو پرنسپل ڈسرکٹ جج نے پولیس کے ریمانڈ کی درخوات کی سماعت کرتے ہوئے سنجیو بھٹ کو’سمجھوتے‘ کا یہ غیر معمولی فارمولہ دیا تھا کہ اگر وہ تین چار گھنٹے کے لیے پولیس کی ریمانڈ میں جانے کے لیے آمادہ ہو جائیں اور ان کے سارے سوالوں کا جواب دے دیں تو شام میں انہیں ضمانت پر رہا کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن سنجیو نے اس پیشکش کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہو ئے کہا تھا کہ یہ اصولوں کی لڑائی ہے ۔

انہوں نے جج سے کہا تھا ’اگر آپ عدالتی فیصلہ دیں تو میں چودہ دن کے لیے پولیس کی تحویل میں جانے کے لیے تیار ہوں لیکن میں سمجھوتہ کر کے چار منٹ کے لیے بھی تحویل میں جانے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔ میں جھوٹ بولنے والوں اور مجرموں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا‘۔

سنجیو بھٹ کو گجرات پولیس نے 30 ستمبر کو اپنے ایک ماتحت کو وزیراعلٰی نریندر مودی کے خلاف گواہی دینےپر مبینہ طور پر مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔

اعلی پولیس افسر سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے ایک بیان حلفی میں الزام لگایا ہے کہ مسٹر مودی نے 2002 کے فسادات کے دوران اعلی افسروں سے کہا تھا کہ وہ ہندوؤوں کو مسلمانوں کے خلاف اپنا غصہ نکالنے دیں اور انہیں نہ روکیں ۔مسٹر مودی نے اس کی تردید کی ہے ۔

وزیر اعلٰی کے خلاف الزام عائد کیے جانے کے بعد سنجیو بھٹ بے ضابطکی کے ایک معاملے میں معطل کر دیے گئے اور بعد میں انہیں کے ایک ماتحت نے ان پر جھوٹا بیان دلانے کے لیے مبجور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ۔

بھٹ کی اہلیہ نے مرکزی حکومت سے مسٹر بھٹ اور اپنے لیے تحفط فراہم کرنے کی درخواست کی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر کے ساتھ پولیس دہشت گردوں جیسا سلوک کر رہی ہے ۔ کل سے ان کے گھر پر سکیوریٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں ۔