’آر ایس ایس گجرات فسادات کا کریڈٹ لے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سول سوسائٹی کی قیادت سے آر ایس ایس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، کیجری وال

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والےسماجی کارکن اروند کیجری وال نے ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف گجرات کے فسادات جیسے ان کاموں کا سہرا اپنے سر باندھے جو اس نے انجام دیے ہیں۔

مسٹر کیجری وال آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے اس دعوے کا جواب دے رہے تھے کہ بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی حالیہ تحریک میں آر ایس ایس کے کارکن بھی شامل تھے۔

اس سے قبل تحریک کے رہنما انا ہزارے نے بھی موہن بھگوت کے دعوے کو مسترد کیا تھا۔

اروند کیجری وال نے کہا کہ ’سول سوسائٹی کی قیادت سے آر ایس ایس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، تحریک کو چلانے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور میں موہن بھگوت جی سے گزارش کروں گا کہ آپ جہاں کریڈٹ لینا ہے وہیں کریڈٹ لیجیے، گجرات میں جو کچھ بھی ہوا تھا وہاں کا کریڈٹ آپ لیجیے لیکن انا کی تحریک انا کی تحریک ہے، اس کا کریڈٹ مت لیجیے‘۔

کانگریس کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے اور بابا رام دیو کی تحریکوں کو ہندو قوم پرست تنظیموں کی درپردہ حمایت حاصل تھی۔

چند روز قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے دشہرے کے موقع پر اپنی ایک تقریر میں یہ دعوی کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا کہ انا ہزارے کی تحریک میں تنظیم کے کارکنوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

تحریک کے دوران انا ہزارے نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی تعریف کی تھی جس پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ لیکن بعد میں انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔

یہ بات تقریباً طے ہے کہ گجرات کے فسادات میں میں آر ایس ایس کے مبینہ رول کا ذکر کرنے سے تحریک کے رہنماؤں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے درمیان لفظوں کی جنگ تیز ہوجائے گی۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ اس کا الزام درست ثابت ہوا ہے۔ پارٹی کے ترجمان دگ وجے سنگھ نے کہا کہ وہ پہلے سے ہی یہ کہہ رہے تھے کہ ان تحریکوں کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے۔

لیکن کانگریس کی مشکلات ختم نہیں ہوئی ہیں۔ ہریانہ کے پارلیمانی حلقے حصار میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے اور انا ہزارے کی ٹیم وہاں جم کر کانگریس کی مخالفت کر رہی ہے۔ خود انا ہزارے نے ایک پیغام نشر کر کے لوگوں سے کانگریس کی مخالفت کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ وہ بقول ان کے لوک پال بل لانے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

سول سواسائٹی کا دعوی ہے کہ حصار میں اگر کانگریس پارٹی ہارتی ہے تو اسے لوک پال بل کے حق میں ریفرینڈم مانا جائے گا۔

لیکن حصار میں کانگریس پارٹی ہمیشہ سے کمزور رہی ہے اور آزادی کے بعد سے اب تک صرف تین مرتبہ وہاں سے کانگریس کا امیدوار کامیاب ہوا ہے۔

حصار میں کانگریس اگر ہارتی ہے تو سول سوسائٹی کے رہنما اسے اپنے موقف کی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے لیکن آر ایس ایس کے خلاف اروند کیجری وال کے سخت بیان سے خود انا ہزارے کی ٹیم کے اندر بھی اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں