اجمل قصاب کی سزا معطل

اجمل قصاب
Image caption اجمل قصاب جنگ جھیڑنے اور دہشتگردی جیسے جرائم کے مرتکب پائےگئے ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے ممبئی حملوں کے مجرم محمد اجمل قصاب کی موت کی سزا کو معطل کر دیا ہے۔

قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ کے موت کے فیصلے کے خلاف عدالت عظٰمی میں اپیل کی تھی۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے ممبئی حملوں کے قصوروار محمد اجمل قصاب کی اس اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے جس میں انہوں نے موت کی سزا کو چیلنج کیا ہے۔

اصول کے تحت ایسی کسی بھی اپیل پر سماعت شروع ہوتے ہی آخری فیصلہ آنے تک پچھلے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا جاتا ہے۔ اسی قانون کے مطابق اجمل قصاب کی موت کی سزا پر فی الوقت روک لگ گئی ہے۔

چھبیس نومبر سنہ دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر ہونے والے حملوں میں تقریبا ایک سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دس حملہ آوروں میں سے صرف اجمل قصاب زندہ بچ گئے تھے۔

ممبئی کی سیشن عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا تھا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد میں ممبئی ہائی کورٹ نے بھی اس سزا کی توثیق کر دی تھی۔ اسی فیصلے کو قصاب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تہیلیانی نے اجمل قصاب کو ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، دہشت گردی کی سازش کرنے، قتل اور اقدام قتل جیسے مختلف الزامات کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔

سنہ دو ہزار آٹھ کو دس مسلح افراد نے ممبئی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں سوائے اجمل قصاب کے باقی تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ساٹھ گھنٹوں سے زیادہ جاری رہنے والی اس لڑائی میں بھارت کے بڑے ہوٹلوں، ریلوے سٹیشن اور یہودیوں کے کلچرل سینڑ کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

اجمل قصاب اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ریلوے سٹیشن پر حملہ کر کے باون افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ان حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوگیا تھا اور بھارت نے ان حملوں کا ذمہ دار پاکستان کے شدت پسند گروپ لشکرِ طیبہ کو قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں