اڈوانی کی بدعنوانی کے خلاف یاترا

لال کرشن اڈوانی
Image caption اڈوانی اپنی سیاسی یاتراؤں کے لیے مشہور ہیں

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی نے بدعنوانی کے خلاف بیداری کے لیے منگل سے ایک یاترا مہم شروع کی ہے۔ اس کا آغاز ریاست بہار کے قصبہ ستبدیرا سے کیا گيا ہے۔

اس یاترا کا نام ’جن چیتنا‘ یعنی عوامی بیداری مہم ہے۔ یاترا شروع ہونے سے قبل ایک شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر اڈوانی نے اسے تاریخی قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی پر قابو پانے کے بعد ہی بھارت عظیم طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔ ’بیسویں صدی یوروپ اور امریکہ کی رہی ہوگي اکیسویں صدی بھارت کی ہے۔ لیکن بدعنوانی سے نمٹنا ضروری ہوگا۔‘

ستبدیرا بھارت کے انقلابی رہنما جے پرکاش نارائن کا آبائی گاؤں ہے۔ آج ان کا یوم پیدائش ہے اور اس روز یاترا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت شروع کی گئی ہے۔

جے پرکاش نارائن نے ستّر کے عشرے میں اندرا گاندھی کی حکومت کے خلاف تحریک شروع کی تھی بعد میں محترمہ گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

اس موقع پر ریاست بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار بھی موجود تھے جنہوں نے اس یاترا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سے چھٹکارا اور بہتر انتظامیہ کی فراہمی سب سے اہم ہے جس کے بغیر تمام مقاصد ادھورے ہیں۔

لال کرشن اڈوانی بھارت میں اپنی سیاسی یاتراؤں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے کئی ریلیاں نکالیں لیکن سب سے پہلی ریلی سنہ انیس سو اکانوے میں ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے نکالی تھی جس سے وہ قومی سیاست میں بھی ابھرے۔

سنہ انیس سو ستانوے میں بھی انہوں نے سومناتھ کے مندر سے ایک یاترا نکالی تھی لیکن پہلی والی یاترا کے بعد سے وہ کوئی خاص کرشمہ نہیں دکھا سکے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان میں وہ اب کوئی کرشمہ نہیں ہے اور یہ وہ صرف سیاست میں دوبارہ واپسی کے لیے کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب وقت آپہنچا ہے کہ بی جے پی اپنے نئے رہنماؤں کو میدان میں اتارے لیکن اڈوانی اب بھی اپنے آپ کو آئندہ انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے پیش کرنا چاہتے ہیں اور یہ یاترا اسی کا پیش خیمہ ہے۔

اسی بارے میں