چینی فوج کی موجودگی پر بھارت کی تشویش

فائل فوٹو
Image caption بھارت پاکستان کے ساتھ چین کے رشتوں کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہے

بھارت نے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں چین کے فوجی عملے کی موجودگی پر بیجنگ سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نئی دلی میں بحریہ کے کمانڈروں کی ایک کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیرِدفاع اے کے اینٹونی نے کہا کہ بھارت پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں چینی فوجیوں کی موجودگی سے واقف ہے

ان کا کہنا تھا ’ ہمیں ان کی موجودگی کا علم ہے اور ہم نے چین کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں مسٹر اینٹونی نے کہا کہ بھارت گزشتہ کئی برس سے اپنی فوجی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے تاکہ وہ ہر چیلنج کا سامنا کر سکے۔

جب وزیر دفاع سے یہ پوچھا گیا کہ چین ویتنام کے ساحل کے نزدیک ساؤتھ چائناسی میں بھارت کے ذریعے تیل کی تلاش کی مخالفت کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس کے بارے اس وقت کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت کا مفاد اسی میں ہے کہ خطے میں بھارتی جہازوں اور تجارت میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ آئے۔

’ساؤتھ چائنا سی میں بڑے پمیانے پر جانے کا کوئی سوال نہیں ہے ہم وہاں بغیر کسی رکاوٹ کے تجارت اور جہازوں کی آمد ورفت کے لیے بحری مشقیں وغیرہ کریں گے۔ لیکن وہاں بحریہ کی موجودگی کا کوئی سوال نہیں ہے۔ ہمارا ایسا کو ئی ارادہ نہیں ہے۔ ہمارا مقصد صرف اپنے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔‘

گزشتہ برس جولائی میں چین کے گشتی جہازوں نے بھارت کے ایک بحری جہاز کو ویتنام سے واپس آتے ہوئے ساؤتھ چائناسی میں روکا تھا اور اسے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چین کی بحری حدود میں ہے۔ یہ بحری خطہ بین الاقوامی سمندر کا حصہ ہے لیکن کچھ عرصے سے چین اس بحری خطے پر اپنا دعوی کر رہا ہے۔

دلی میں نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ وزیرِدفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ویتنام کے صدر تورانگ تان سانگ بھارت کے دورے پر ہیں اور دلی میں ان کے قیام کے دوران دفا‏عی اشتراک سمیت کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔

بات چیت شروع ہونے سے قبل وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ساؤتھ چائناسی کا سوال بھی بات چیت کا موضوع ہوگا تو انہوں نے جواب دیا کہ باہمی مفاد کے تمام موضوعات پر بات چیت ہوگی۔

بھارت مختلف شعبوں میں ویتنام کے ساتھ اشتراک کرنے کے علاوہ ویتنامی فوج کی تربیت میں بھی مدد کرے گا۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت ویتنام سے اسی طرح کےگہرے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے جس طرح کے قریبی تعلقات چین کے پاکستان کے ساتھ ہیں۔

اسی بارے میں