شمالی بھارت میں دماغی بخار سے ہلاکتیں

بخار سے متاثر بچے کی فائل فوٹو
Image caption یہ دماغی بخار برسات میں زیادہ پھیلتا ہے

بھارت کی ریاست اترپردیش کے مشرقی علاقوں میں حکام کے مطابق دماغی بخار سے چار سو سے زیادہ بچے ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد بچے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بھی ہوئے ہیں۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع گورکھپور میں انسفلائٹس یعنی دماغی بخار سے گزشتہ بہتر گھنٹوں میں انیس بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

ریاست یو پی کے مشرقی اضلاع میں یہ بیماری گزشتہ کئی برسوں سے پھیلی ہوئی ہے لیکن ابھی تک اس پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

اس بیماری کا زیادہ تر اثر اترپردیش اور بہار کے سرحدی اضلاع کشی نگر، مہاراج گنج، دیوریا اور نیپال سے متصل سرحدی علاقوں میں ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رواں برس جنوری سے اب تک چار سو سے زیادہ افراد اس بیماری سے ہلاک ہوچکے ہیں جس میں سے بیشتر کم سن بچے ہیں۔

حکام کے مطابق گورکھپور میڈیکل کالج میں اس وقت بھی دماغی بخار میں مبتلا بہت سے مریض زیرِعلاج ہیں جن میں سے متعدد بچوں کی حالت نازک ہے۔

مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ہسپتال میں جگہ کم ہے اور ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ جس ہسپتال میں سو دو سو مریضوں کی جگہ ہے وہاں پانچ سو مریض پڑے ہوئے ہیں۔

طبی ماہرین کی ٹیمیں کئی بار علاقے کا دورہ کر چکی ہیں لیکن اس بیماری سے نمٹنے کیے لیے ابھی تک کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔

گورکھپور میڈیکل کالج کے پرفیسر کے پی کشواہا کا کہنا ہے کہ ایک ہی طرح کی کئي مشتبہ علامتوں کے پائے جانے کے سبب وائرس کی شناخت ایک مشکل عمل ہے۔ بعض واقعات میں ایک اور نئے وائرس کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت میں پونے کے تحقیقی ادارے ’نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی‘ کے ایک سائنسدان ملندگورے بھی گورکھپور کے میڈیل کالجز کے ڈاکٹروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ریسرچ سے ابھی تک صرف انفلائٹس کے مختلف وائرس میں سے جاپانی انسلائٹس (جےای) کی ہی پہچان ہو پائی ہے لیکن انٹرو وائرس بہت طرح کے ہوتے ہیں جن کی شناخت ایک مشکل کام ہے۔

انسفلائٹس دراصل ایک خاص مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور اس کے نتیجے میں دماغ کے کام میں خلل پڑتا ہے اور انسان مفلوج ہو جاتا ہے۔ ہر برس آنے والے سیلابی پانی اور گندے پانی کے جوہڑوں کو اس بیماری کا موجب بننے والے مچھروں کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ریاست اترپردیش کی کسی لیبارٹری میں اس بخار کے وائرس کا تجزیہ کرنے کا انتظام نہیں اور اس لیے تمام نمونے ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی بھیجے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں