بھارت کے چار نئے سیٹلائٹ مدار میں

فائل فوٹو
Image caption بھارت خلائی مشن میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

بھارت نے بدھ کی صبح مون سون کے نظام پر نظر رکھنے کے لیے چار نئے سیٹلائٹ مدار میں بھیجے ہیں۔

یہ چاروں سیٹلائٹ پی ایس ایل وی سے لانچ کیا گيا ہے اور مشن کامیاب رہا۔

بھارت میں شری ہری کوٹا کے معروف خلائي سٹیشن ستیش دھون سپیس سینٹر سے سیٹلائٹ میگھا کو لانچ کیا گيا اور بھارتی خلائی ادارے اسرو کے سربراہ رادھا کرشن نے اسے ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔

چار میں سے سب سے بڑے سیٹلائٹ کا نام ’میگھا ٹراپیکیو‘ ہے جسے بھارت اور فرانس کی مشترکہ کوششوں سے تیار کیا گيا ہے۔ اس کا مقصد موسمی حالات کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے۔

یہ سیٹلائٹ خصوصی کیمروں سے لیس ہے جو مون سون پر نظر رکھنے کے لیے بادل اور ہواؤں کی معلومات اکٹھی کرے گا۔

رادھا کرشن کا کہنا تھا ’سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کیے گیے گئے ہیں اور ہمارا جو مقصد تھا اس میں ہمیں کامیابی ملی ہے۔‘

سیٹلائٹ لانچ کرنے والی مشین ’پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل‘ یعنی پی ایس ایل وی – سی 18 سے اس کے علاوہ تین چھوٹے سیٹلائٹ بھی مدار میں بھیجے گئے ہیں۔

اس میں سے ایک ’ویسل سیٹ‘ لگژمبرگ کی ہے جبکہ ایس آر ایم سیٹلائٹ چینائی یونیورسٹی اور جگنو نامی سیٹلائٹ کو کانپور کے آئی آئی ٹی انسٹیٹیوٹ میں تیار کیا گيا ہے۔ ان دونوں کو یونیورسٹی کے طلباء نے بنایا تھا۔

ان چاروں میں سب سے بڑی سیٹلائٹ میگھا یعنی بادل کو اسّی کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔