فوج میں کمی کی سفارش

پڈگاؤنکر
Image caption بھارتے کے معرف صحافی دلیپ پڈگاؤنکر اہم رابطہ کار ہیں

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی طرف سے گزشتہ برس مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈے کے لیے قائم کیے گئے تین رکنی کمیشن نے بدھ کو اپنی سفارشات حکومت کو پیش کر دی ہیں۔

بڑے محتاظ الفاظ اور لہجے میں لکھی گئی اس رپورٹ میں ’آزادی‘ یا ’ کشمیر تنازع‘ جیسے الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے، اور حکومت سے کہا گیا ہے کہ ’ کشمیر کے مسئلہ‘ کو حل کرنے کے لیے یہاں کے لوگوں کو بھارتی آئین کے تحت زیادہ سے زیادہ جمہوری اور شہری حقوق دیئے جائیں۔

فوج اور نیم فوجی دستوں کو حاصل خصوصی اختیارات کے قانون میں ترمیم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام نیز متاثرین کے لیے فوری انصاف کی وکالت کی گئی ہے۔ رپورٹ میں شہروں و قصبوں میں فوج کی تعداد میں کمی سے متعلق تجاویز بھی ہیں۔

رپورٹ کا ایک باب خاص طور پر کنٹرول لائن کے آر پار تجارتی مواقع کو مزید وسعت دینے سے متعلق ہے اور تجارتی و تمدنی تعلقات کو مسئلہ کے حل میں کلیدی معاون قرار دیا گیا ہے۔ سیاسی گروپوں اور عوامی وفود کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کی خاطر پاکستان کو مذاکرات میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔

لیکن رپورٹ میں کشمیر تنازعی کی تاریخ کا براہ راست کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ اس بارے میں دلیپ پڈگاؤنکر کہتے ہیں کہ ’ہم نے تاریخ کے متنازع بوجھ سےگریز کیا ہے، کیونکہ ہم کشمیر کے ایسے مستقبل کا خاکہ پیش کرنا چاہتے ہیں جس میں ریاست کے تمام خطوں کی سیاسی، تمدنی اور معاشی خواہشات کا احترام شامل ہو۔‘

Image caption پرفیسر رادھا کمار تین رابطہ کاروں میں ایک تھیں

مسٹر پڈگاؤنکر کے مطابق مذاکرات کاروں کی رپورٹ میں ایک ایسے متحدہ جموں کشمیر کی تجویز ہے جس میں جموں، لداخ اور کشمیر کے لوگ اپنی اپنی سیاسی خواہشات پا سکیں اور رواداری کے ساتھ ایک ہی ریاست میں رہ سکیں۔

رپورٹ میں ریاست میں جمہوری ڈھانچہ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سیاسی اختیارات کو غیرمرکوز کر کے عام شہریوں کو بااختیار بنانے کی بات کی گئی ہے اور بھارتی آئین میں پہلے سے موجود دفعہ تین سو ستّر کی حفاظت کو ناگزیز بتایا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی صدر ریچرڈ نِکسن اور پاکستانی فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف سمیت متعدد شخصیات اور گروپوں نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے ابھی تک بیس سے زائد فارمولے پیش کیے ہیں۔

حکمران نیشنل کانفرنس ریاست کو بھارتی آئین کے تحت ’خودمختار‘ بنانے کے لیے ’اٹانومی رپورٹ‘ ترتیب دے چکی ہے جبکہ اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کنٹرول لائن کے آر پار لوگوں کو خودمختاری فراہم کرنے سے متعلق ’سیلف فارمولہ‘ تجویز کیا ہے۔

Image caption کشمیری بھارت سے آزادی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں

علیٰحدگی پسندوں نے ابھی تک کوئی بھی تحریری دستاویز جاری نہیں کیا ہے تاہم علیٰحدگی پسند سیاست ترک کرکے ہندنواز خیمہ میں جانے والے سجاد غنی لون نے ’قابل حصول وطنیت‘ کے عنوان سے ایک دستاویز سن دو ہزار چھ میں وزیراعظم منوہن سنگھ کو پیش کی تھی۔

کشمیر کے علیٰحدگی پسندوں نے دہلی سرکار کی طرف سے مذاکرات کاروں کی تعیناتی کو وقت ضائع کرنے کا ایک حربہ قرار دیا تھا۔ لیکن مذاکرات کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ علیٰحدگی پسندوں کے مؤقف کو بھی دستاویز میں شامل کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر سے متعلق یہ پہلی تحریری دستاویز ہے جس میں بھارتی آئین کی حدود میں مسئلہ کشمیر کا حل تجویز کیا گیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس نئے سرکاری فارمولہ کا ایک نمایاں تو یہ باور کرنا ہے کہ جموں کشمیر میں صرف ’آزادی‘ مانگنے والے نہیں رہتے بلکہ لداخ اور جموں کے بعض اضلاع میں دوسرے بھی لوگ ہیں، جو بھارت کے اندر ہی جمہوری حقوق چاہتے ہیں۔

دوسرا مقصد ہند نواز سیاسی حلقوں کے لیے سیاسی نصاب کی حدود طے کرنا ہے تاکہ وہ ووٹروں کو رِجھانے کی کوشش میں ہندمخالف جذبات بھڑکانے کے مرتکب نہ ہوجائیں۔

تاہم کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت ہند یہ فارمولہ ترتیب دے کر اور اس کی سفارشات پر عمل شروع کر کے یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے میں سنجیدہ ہے۔

اسی بارے میں