کشمیر پر بیان کےلیے پرشانت بھوشن پر حملہ

بھوشن تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption پرشانت بھوشن بھارت کے سرکدہ وکیل ہیں

بھارت میں انا ہزارے کی ٹیم کے اہم رکن اور حقوق انسانی کے سرکردہ کارکن پرشانت بھوشن کو دلی میں سپریم کورٹ کے احاطے میں واقع ان کے چیمبر میں بعض افراد نے بری طرح زد وکوب کیا ہے۔

جس وقت سپریم کورٹ کے معروف وکیل پر حملہ کیا کیا گیا وہ اپنے چیمبر میں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے اور ان پر حملے کا پورا منظر ٹی وی پر دکھایاگیا ہے۔ حملہ آوروں میں سے ایک کو پکڑ لیا گیا ہے۔

حملہ آوروں کی تعداد تین بتائی جاتی ہے۔گرفتار کیےگئے حملہ آور اندور ورما نے بتایا ہے کہ ان کا تعلق ’بھگت سنگھ کرانتی سینا۔‘سے ہے اور انہوں نے یہ حملہ کشمیر کے بارے میں پرشانت بھوشن کے ایک بیان کی وجہ سے کیا ہے۔ انہوں نے اپنی گرفتاری کے وقت یہ بھی کہا کہ یہ حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ پرشانت بھوشن '' کشمیر پاکستان کو دینے کی بات کر رہے تھے''۔

حملہ آوروں نے ایک پمفلٹ چھوڑا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’ ہم اس کا سر توڑ دیں گے جو ہمارے ملک کو تو ڑنے کی کو شش کریگا۔‘

پرشانت بھوشن کے سر میں بھی چوٹ لگی ہے اور انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

چند دنوں پہلے ایک نیوز کانفرنس میں پرشانت بھوشن نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں کشمیر میں ریفرنڈم کیا جانا چاہئے۔ پرشانت کا تعلق حقوق انسانی کی تنظیموں سے رہا ہے اور کچھ دنوں پہلے وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ریاست کے پولیس سربراہ کے خلاف ایک فرضی انکاؤنٹر کے مقدمے میں ہلاک ہونے ولاے افراد کے رشتے داروں کی نمائندگی کرنے سری نگر گئے تھے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ وہ کشمیر کی گمنام قبروں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے ۔

پرشانت کے والد اور معروف وکیل شانتی بھوشن نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ حملے کر کے پرشانت کے خیالات بدل سکتا ہے تو وہ غلطی پر ہے۔ ’میں گزشتہ بیس برس سے کہہ رہا ہوں کہ دنیا کے ہر خطے میں ہرشخص کو آزادی کا حق حاصل ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کشمیری عوام کو باور کرائیں کر بھارت کے ساتھ رہنا ان کے بہتر مفاد میں ہے۔‘

شانتی بھوشن نے کہا ’پرشانت ایک بے خوف انسان ہے اور وہ جو صحیح سبمجھتا ہے اس پر عمل کرتا ہے۔‘

خود شانتی بھوشن نے بھی چند روز پہلے کہا تھا کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر انتہائی فرقہ پرست انسان ہیں اور یہ کہ اگر مودی مخالف پولیس افسر سنجیو بھٹ نے ان سے رجوع کیا تو وہ ان کا مقدمہ لڑنے کے تیار ہیں۔

بدعنوانی کے خلاف تحریک کے رہنما انا ہزارے نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے انہوں نے کہا ’نوجوان طبقہ ہی اس ملک میں تبدیلی لائیگا۔ اگر وہ اس طرح قانون کو ہاتھ میں لے کر تشدد کے راستے پر اتر آتا ہے تو پھر اچھی علامت نہیں ہے۔‘

بھارتی جنتا پارٹی اور کانگریس نے بھی پرشانت بھوشن پر حملے کی مذمت کی ہے۔ کانگریس کے تربمان ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ حملہ آوروں اور ان کی تنظیم کی کہرائی سے شناخت کی جانی چاہئے۔

اسی بارے میں