کشمیر سے منی پور تک احتجاجی ریلی

اروم شرمیلا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اروم شرومیلا شتہ کئی برس سے بھوک ہڑتال پر ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر اور ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں تعینات فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے خلاف بھارتی این جی اوز کے رضاکار اتوار کو کشمیر سے منی پور تک احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں۔

تین ہزار کلومیٹر کی اس ریلی کا اہتمام بھارتی این جی او ’نیشنل الائنس فار پبلک مومنٹ‘ یا این اے پی ایم نے کیا ہے۔

اس ریلی میں منی پور کی خاتون رضاکار اِروم شرمیلا شانو کے بھائی سنِگھجیت اِروم بھی شرکت کررہے ہیں۔

گیارہ سال قبل منی پور میں ایک خاتون کی بھارتی فوج کے ہاتھوں مبینہ جنسی زیادتی کے بعد اِروم شرمیلا نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ یا ’افسپا‘ کے خلاف احتجاجی بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جو ابھی جاری ہے۔

مسٹر سنگھجیت نے بی بی سی کو بتایا ’جموں کشمیر ہو یا بھارت کا کوئی بھی حصہ، ہم نہیں چاہتے کہ فوج کو بے لگام رکھا جائے۔ ہم افسپا کے خلاف یہ ریلی کررہے ہیں، اس قانون کا شکار ہم بھی ہیں اور کشمیری لوگ بھی۔‘

ریلی میں معروف بھارتی شخصیات میدھا پاٹکر اور پروفیسر سندیپ پانڈے بھی شریک ہورہے ہیں۔

یہ سبھی سماجی رہنما اتوار کو سرینگر کے حضرت بل علاقہ میں واقع ایک زیارت گاہ پر حاضری دے کر منی پور کا سفر شروع کریں گے۔

منی پور کے ایک رضاکار ببلو لُوائے ٹونڈن نے بی بی سی کو بتایا ’فوج کی طرف سے زیادتیاں تب ہوتی ہیں، جب فوج کسی کو جواب دہ نہ ہو۔ افسپا کا قانون فوجی زیادتیوں کا موجب بنتا ہے۔ ہم اگر یہ ریلی کررہے ہیں تو اس کا مقصد پورے بھارت کو پرامن بنانا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر سے اس ریلی کا آغاز کرنے کی وجہ یہاں ہوئی وسیع پیمانہ کی فوجی زیادتیاں ہیں۔

رضاکاروں کا یہ گروپ پنچاب، بہار، اترپردیش اور بنگال کی راستوں سے ہوتے ہوئے اڑتالیس گھنٹوں کا سفر کرنے کے بعد منی پور پہنچے گا۔

واضح رہے بھارتی پارلیمان نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ کو اُنیس سو اٹھاون میں منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت کسی بھی ریاست میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث فوج یا نیم فوجی اہلکاروں کے خلاف مقامی حکومت کوئی تعزیری کاروائی نہیں کرسکتی۔ یہ قانون فوجی اہلکاروں کو کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت بغیر عدالتی اجازت کے گرفتار کرنے اور کسی بھی گھر میں کسی بھی وقت تلاشی لینے کا اختیار دیتا ہے۔

یہ قانون سب سے پہلے منی پور میں ہی لاگو کیا گیا، اور بعد میں دوسری شمال مشرقی ریاستوں آسام، تریپورہ، میگھالیہ، میزورم اور ناگالینڈ کو بھی اس زمرے میں لایا گیا۔ جموں کشمیر میں اس قانون کا اطلاق اُنیس سو نوّے میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی کیا گیا۔

پچھلے بائیس سال کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ بھارت کی سول سوسائٹی جموں کشمیر اور شمال مشرق میں فوجی زیادتیوں اور فوج کی عدم جوابدہی کے خلاف اس پیمانہ کی ریلی کررہے ہیں۔

سن دو ہزار آٹھ سے کشمیر میں عدم تشدد کا جو رجحان پیدا ہوا ہے، اس کے بعد بھارتی سول سوسائیٹی نے کشمیری امور میں دلچسپی لینا شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں نئی دلّی اور مقامی حکومت کئی بار ان حلقوں کی سرگرمیوں پر قدغن لگاتی رہی ہیں۔

پچھلے سال نئی دلّی میں ’آزادی‘عنوان سے ماؤنواز اور کشمیری دانشوروں کا جو سیمینار ہوا، اس میں شرکت کے لئے ناول نگار ارون دھتی رائے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی طرح امریکی شہریوں پروفیسر ریچررڑ شاپیرو اور براڈکاسٹر ڈیوڈ بارسامیان اور بھارتی رضاکار گوتم نولکھا کو کئی مرتبہ سرینگر ائرپورٹ سے ہی واپس دلّی بھیجا گیا۔

اسی بارے میں