کرناٹک کے سابق وزیرِاعلٰی گرفتار

بی ایس یدورپا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بی ایس یدروپا پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام ہے

سرکاری اراضی میں خرد برد کے ایک مقدمے میں مقامی عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کے بعد کرناٹک کے سابق وزیرِاعلی بی ایس یدورپا کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

عدالت نے انہیں بائیس اکتوبر تک عدالتی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اس سےقبل سنیچر کو بدعنوانی کے مقدمے کی سنوائی کرنے والی ایک خصوصی عدالت نے ان کی عبوری ضمانت کی دوخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد عدالت نے ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔

دو مہینے پہلے بھارت میں حزبِ مخالف کی جماعت بھارتیا جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے بی ایس یدورپا نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔

انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کی ایک رپورٹ میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ سنہ دو ہزار چھ سے سنہ دو ہزار دس کے درمیان تین ارب ڈالر سے زائد کی بدعنوانی کی گئی۔ بی ایس یدرپا خود پر لگے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

بی ایس یدورپا کو ان کے عہدے کے دوران سرکاری زمین کی ڈی نوٹیفکیشن کے الزام میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے رشتے داروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایسا کیا تھا۔

سنیچر کو خصوصی عدالت کی جانب سے ان کی ضمانت کی اپیل خارج ہونے کے بعد بی ایس یدورپا کی گرفتاری کا ورانٹ جاری کیا گیا تھا۔

وارنٹ جاری ہونے کے بعد پولیس ان کے گھر پہنچ گئی تھی۔ بہت دیر تک ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں آتی رہی ہیں کہ یدورپا اپنے گھر سے فرار ہوگئے تھے لیکن بعد میں یدروپا نے عدالت کے سامنے خود کو پیش کیا جہاں انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

اس معاملے میں یدورپا کے علاوہ ان کی کابینہ کے وزیر کرشنا شیٹی کو بھی جیل بھیجا دیا گیا تھا۔ انہوں نے ضمانت کی دوخواست دی تھی جسے مقامی عدالت نے خارج کردیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور کرناٹک کے سابق وزیر بی ایس یدورپا کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئیر لیڈر کرپشن کے خلاف بھارت یاترا کر رہے ہیں۔

یدورپا کی گرفتاری کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں