’کشمیر پر انّا ہزارے سے منسوب بیان غلط‘

میدھا پاٹکر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اننا ہزارے نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے

ہندوستان کی سرکردہ سماجی کارکن میدھا پاٹیکر نے اتوار کو اُن اخباری اطلاعات کی تردید کردی جن کے مطابق انّا ہزارے نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا تھا۔

جموں کشمیر اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں فوج کو حاصل لامحدود اختیارات کیخلاف اتوار کو سرینگر سے تین ہزار کلومیٹر کی طویل ریلی شروع کی گئی۔

کشمیر سے منی پور تک کی اس ریلی میں میدھا پاٹیکر سمیت بھارت کے کئی معروف سماجی کارکن شرکت کر رہے ہیں۔ اس مہم کے آغاز پر میدھا پاٹیکر نے کہا ’انا سے پوچھا گیا کہ مسلہ کشمیر پر ٹیم انا کا کیا مؤقف ہے تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ان کی ٹیم ابھی متفقّہ پالیسی مرتب کررہی ہے۔ بس اسی بیان کو غلط طریقہ سے پیش کیا گیا۔‘

واضح رہے کہ میڈیا میں جاری ہوئے مذکورہ بیان پر کشمیر کے علٰیحدگی پسندوں نے انا ہزارے پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ یہاں تک کہ سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے انہیں ’ڈھونگی بابا‘ قرار دیا تھا۔

میدھا پاٹیکر نے بی بی سی سے مختصر گفتگو کے دوران بتایا ’'ٹیم انّا کا ماننا ہے کہ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس کے حل پر مختلف آراء ہوسکتی ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو عوام کے ساتھ بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے اور یہ حل تب تک ممکن نہیں جب تک وہ لوگ (اقتدار میں) ہیں جو لوگوں پر بندوق کی نوک سے راج کرنا چاہتے ہیں۔‘

سرینگر سے شروع کی گئی یہ سفری مہم جموں کشمیر اور سات شمال مشرقی ریاستوں میں تعینات فوج اور دوسری فورسز کو حاصل قانونی تحفظ کے خلاف شروع کی گئی ہے۔

مہم میں شامل رضاکار کئی ریاستوں سے ہوتے ہوئے منی پور کے دارالحکومت امپھال پہنچے گے اور آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ یا افسپا کے خلاف عوامی قرارداد منظور کریں گے۔

قابل ذکر ہے فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے قانون ’افسپا‘ کو سب سے پہلے منی پور میں ہی لاگو کیا گیا اور بعد میں علیٰحدگی پسند جذبات دبانے کے لئے تمام شمال مشرقی ریاستوں کو بھی اس قانون کے زمرے میں لایا گیا۔

جموں کشمیر میں اُنیس سو نوّے میں مسلح تحریک شروع ہوتے ہی یہاں تعینات فوج اور دوسری فورسز کو اس قانون کا تحفظ فراہم کیا گیا۔

افسپا مخالف مہم میں منی پور کی خاتون رہنما اِروم شرمیلا کے بھائی سنگھجیت اروم بھی ہیں۔

مس شرمیلا پچھلے گیارہ سال سے فوج کو حاصل افسپا کے تحفظ کے خلاف بھوک ہڑتال پر ہیں، اور انہیں حکام زبردستی ناک کے ذریعہ غذا پہنچا رہے ہیں۔

سنگھجیت اروم نے بتای’یہ صرف جموں کشمیر کی لڑائی نہیں، یہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ اس خطرناک قانون کو ہٹانے کے لئے شرمیلا گیارہ سال سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ بھارت میں تو پرتشدد تحریکیں بہار، آندھرا پردیش اور مہاراشتڑا اور چھتیس گڑھ میں بھی ہیں، لیکن وہاں نافذ نہیں ہے۔ صرف شمال مشرق اور جموں کشمیر کو کیوں ہدف بنایا جارہا ہے؟‘

اس مہم کا اہتمام حیدرآباد میں مقیم نیشنل الائنس فار پیپلز مومنٹ نے کیا ہے اور کشمیر سے اس کی حمایت جموں کشمیر آر ٹی آئی مومنٹ، ایم ایل اے انجنئر رشید اور بھارتی تنظیم ’ان حد‘ نے کی۔

اسی بارے میں