تیلنگانہ کے لیے ریل روکو مہم اور ہڑتال

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیلنگانہ ریاست کے لیے کافی دنوں سے تحریک جاری ہے

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں علٰیحدہ ریاست تیلنگانہ کے مطالبے کے لیے ’ریل روکو مہم‘ کے آخری دن عام ہڑتال سے زندگي بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ریاستی حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور کئی مقامات پر اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

ریل روکو مہم کی وجہ سے اس علاقے میں ریل سروسز پہلے ہی منسوخ تھیں اور پیر کی عام ہڑتال کا اثر بھی پڑا ہے۔

گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے ریل روکو مہم پر قابو پانے کے لیے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا تھا اور تیلنگانہ سنیوکت سنگھرش سمیتی نے اسی کے خلاف عام ہڑتال کی کال دی ہے۔

اتوار کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے بعض مقامات پر لاٹھی چارج کیا تھا جس میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ مظاہروں کے دوران بعض ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

سنگھرش سمیتی نے بہتر گھنٹے کے لیے ریل روکو مہم کی کال دی تھی جس کے سبب ریاست آندھرا پردیش میں ریل سروسز متاثر ہوئی۔

اس دوران کئی علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

ریاست آندھرا پردیش میں تیلنگانہ کے حامی دارالحکومت حیدرآباد اور اس کے آس پاس کے دس اضلاع پر مشتمل علاقے میں ایک الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ کافی پرانا ہے لیکن کافی احتجاج کے بعد مرکزی حکومت نے الگ ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم کئی برس گزرنے کے بعد بھی اس سمت میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور اسی لیے ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں