کڈن کلم جوہری منصوبے کے خلاف احتجاج

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں پلانٹ کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں

بھارت کی ریاست تمل ناڈو کی وزیراعلٰی جے للتا نے کڈن کلّم کے جوہری پلانٹ کے تنازع سے متعلق وزیراعظم منموہن سنگھ پر نکتہ چینی کی ہے۔

ادھر علاقے کے گاؤں کے رہائشیوں نے کڈن کلم میں مجوزہ جوہری پلانٹ کی تعمیر کے خلاف ایک بار پھر اپنا احتجاج شروع کر دیا ہے۔

وزیراعلٰی جے للتا کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس موقف کی حامی ہے کہ جب تک عوام کا خوف دور نہیں ہو جاتا اس وقت تک کڈن کلّم جوہری پلانٹ کی تعمیر کا کام روک دیا جانا چاہیے۔

جے للتا نے کہا ’احتجاج ابھی بھی جاری ہے کیونکہ مرکزی حکومت نے وہاں کام معطل نہیں کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری پلانٹ سے لوگوں میں جو تشویش پائی جاتی ہے انہیں دور کرنے کا کام مرکزی حکومت کا ہے لیکن مرکز الزام تراشی میں ملوث ہے۔

مرکزی حکومت جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ساحلی علاقے کڈن کلم میں ایک نیا جوہری پلانٹ تعمیر کر رہی ہے لیکن علاقے کی بڑی تعداد اس کی مخالف ہے۔

جوہری توانائی کے خلاف تحریک چلانے والے پیپلز مومنٹ کے سرکردہ رکن ایس پی اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ابھی تک کام نہیں رکا ہے اور اب بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال اور ریلیوں کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس بار ساحلی علاقوں کے دیگر گاؤں سے بھی لوگ اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگر کام دوبارہ شروع ہوا تو پھر چاہے کچھ بھی ہوجائے گاؤں کے ہزاروں لوگ انسانی زنجیر بنا کر اس پلانٹ کا محاصرہ کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ بھارت کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ ہوگا

اس پلانٹ کے خلاف گزشتہ ہفتوں سے زبردست مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور کشیدگی کے سبب پلانٹ میں کام کرنے والے کئی سو ملازمین پہلے ہی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

ادھر مرکزی حکومت اس جوہری پلانٹ پر کام روکنے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی کی پیداوار کے لیے کڈن کلم پلانٹ ملک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور اس کی تعمیر کے لیے سکیورٹی کے عالمی معیار کو اپنایا گيا ہے۔

اس سے پہلے وزیراعظم منموہن سنگھ بذات خود مقامی لوگوں کو ان کے تحفظ کے متعلق یقین دہانی کرا چکے ہیں لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آیا ہے اور عوام کا احتجاج جاری ہے۔

جاپان کے فوکوشیما میں سونامی کے بعد سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کے بعد بھارت میں تعمیر ہونے والے نئے جوہری پلانٹ کے خلاف احتجاج شروع ہوئے ہیں۔

ریاست مہاراشٹر میں ممبئی کے پاس جیتا پور کے پلانٹ کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور اب کڈن کلم میں بھی لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔

کڈن کلم کا جوہری پلانٹ تیرہ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہورہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی توانائی سے ریاست تمل ناڈو بجلی کے شعبے میں خود کفیل ہوجائےگا۔

اسی بارے میں