نوئیڈا:’زمین حکومت کی نہیں کسانوں کی‘

نوئیڈہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نوئیڈہ میں غریب کسان اپنی زمین واپس لینے کے لیے تحریک چلارہے ہیں

اترپردیش کے شہر الہ آباد کی ہائیکورٹ نے نوئیڈا میں زمین کے حصول کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے تین دیہات کی زمین پر حکومت کے قبضے کو مسترد کر دیا ہے۔

دلی کے قریب مغربی اترپردیش میں ریاستی حکومت نے کسانوں کی زمین غیر قانونی طور پر حاصل کی تھی۔

ہائی کورٹ نے تریسٹھ دیہات کے معاملات کی سنوائی کرتے ہو‎‎‎ئے شاہ بیری، اسداللہ پور اور دیولا کی زمین کے حصول کو رد کردیا ہے اور باقی گا‎ؤں کے کسانوں کی زمینوں کے بڑھے ہوئے داموں کی وجہ سے انہیں چونسٹھ فیصد ہرجانہ دینے کے لیے کہا ہے۔

ساتھ ہی عدالت نے کہا ہے کہ کسانوں کو ان علاقوں میں دس فیصد زمین دی جانی چاہیے جہاں تعمریاتی کمپنیوں نے زمین حاصل کر کے عمارتیں بنائیں ہیں اور جن علاقوں میں سبھی سہولتیں مہیا ہیں۔

الہ آباد کے مقامی صحافی رشی مالوی نے بتایا ہے کہ عدالت نے ریاست کے چیف سیکرٹری کو حکم دیا ہے کہ وہ پردھان سیکرٹری کی سطح پر ایک اہلکار کا انتخاب کریں جو اس بات کی تفتیش کرے کہ کس طرح ماسٹر پلان میں تبدیلی کی گئی ہے اور کس طرح بلڈرز کو زمین دی گئی ہے۔

عدالت نے ان سبھی معاملات پر رپورٹ طلب کی ہے۔

عدالت کے اس فیصلے سے بعض کسان خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاوضے کی بات نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ ان کی زمین کی حصول کو پوری طرح رد کیا جائے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ جس برس ان کی زمین ان سے لی گئی تھی ان سے کہا گیا تھا کہ اسے ڈیویلپ کر کے زمین انہیں واپس کردی جائے گی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

جن گا‎ؤں میں زمین کی’اکوائرنگ‘ کو رد کیا گیا ہے وہاں لوگ خوشیاں منا رہے ہیں۔ لیکن جن گا‎ؤں کی حصولی رد نہیں کی گئی ہے وہاں غم کا ماحول ہے۔ وہاں کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں احتجاج کریں گے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ زمین حاصل کرنے والی گریٹر نوئیڈا اتھارٹی اور بلڈرز کے درمیان سانٹھ گانٹھ ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس پر دس لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

اس علاقے میں کافی عرصے سے کسان احتجاج کر رہے ہیں۔ نوئیڈا سے آگرہ تک تعمیر کیے جانے والے ایکسپریس وے کے دونوں طرف بھی ہزاروں ایکڑ زمین حکومت نے حاصل کی ہے جس سے کسان ناراض ہیں اور ان کے احتجاج نے کئی مرتبہ تشدد کی شکل بھی اختیار کی ہے۔

پولیس اور کسانوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کئی لوگ مارے جاچکے ہیں۔ ریاست میں بہوجن سماج پارٹی کی حکومت ہے اور اس کا الزام ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں کسانوں کو اکسا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ریاست میں آئندہ برس کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور وہاں سیاسی ماحول پہلے سےگرم ہے۔ ایسے میں زرعی زمینیں حاصل کرنے کا معاملہ ایک بڑا سیاسی موضوع بنتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں