کشمیر کے کمسن قیدی

کشمیری خاندان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رہائی پانے پر ایسے بچے چِڑے چِڑے ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ خود کو باقی بچوں سے مختلف محسوس کرنے لگتے ہیں

اگست2010 کی بات ہے۔ شمالی قصبہ پٹن کے پلہالن گاؤں میں پندرہ سالہ عمراشرف بھی ان درجنوں کم سن مظاہرین میں شامل تھے جنہیں پولیس نے ایک ٹرک میں لاد کر بارہمولہ کی ماچس فیکڑی میں قید کیا تھا۔

ماچس فیکٹری بیس سال قبل مسلح شورش کی شروعات کے بعد سے پولیس کے قبضہ میں ہے۔ اب یہاں مشتبہ افراد کی تفتیش ہوتی ہے۔

ماچس فیکٹری، پولیس تھانہ اور بارہمولہ جیل میں پینتیس دن اور پینتیس راتوں کے بعد عمراشرف سے پوچھیئے کہ ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے تو وہ کافی اصرار کے بعد دبے الفاظ میں عمر کہتے ہیں 'اب تو ڈر لگتا ہے۔

’پولیس والے کو دیکھتا ہوں، تو لگتا ہے میرے پیچھے ہے۔ہاں بدل گیا بہت۔ اب تو عدالت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔پیشی کے لئے نہ جائیں تو پولیس والے گھر آجاتے ہیں۔‘

چالیس سالہ محمد اشرف کہتے ہیں کہ انہیں ہر ماہ اپنے بیٹے کے ساتھ عدالت میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ ’لگتا ہے جیل میں عمر کی زندگی ہی بدل گئی۔ وہ تو خاموش رہتا ہے، اور بات بات پر بہت غصہ کرتا ہے۔‘

عمر کو عدالت سے شکایت ہے کہ ’جج صاحب ہر بار میرا نام پوچھتے ہیں، اور اگلی تاریخ بتاتے ہیں۔ وہ انصاف نہیں کرتے۔‘

عُمر کی چھوٹی بہن آسِرت کہتی ہیں کہ ان کا بھائی ان سے اچانک دُور رہنے لگا ہے۔ ’میں کچھ کہتی ہوں تو میری پٹائی کرتا ہے۔‘ عمر کہتے ہیں کہ گرفتاری کی وجہ سے ان کا سکول بھی چھوٹ گیا اور انہیں اب دسویں جماعت کا امتحان نجی طور پر دینا ہوگا۔

جیل کے مخصوص ماحول اور پولیس کے خوف سے عُمر اور ان جیسے متعدد کم سن لڑکوں کا مزاج تبدیل ہوجاتا ہے۔ تفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر ارشد حُسین کہتے ہیں بچوں کو جیل میں دوسرے مجرموں یا مسلح لیڈروں کے ہمراہ قید کرنے سے ان پر طرح طرح کے نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں۔

’ان میں سب سے خطرناک بات احساس کمتری ہے، انہیں لگتا ہے کہ وہ سماج میں الگ تھلگ پڑگئے ہیں۔‘ ڈاکٹر ارشد کے مطابق رہائی پانے پر ایسے بچے چِڑے چِڑے ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ خود کو باقی بچوں سے مختلف محسوس کرنے لگتے ہیں۔

یہاں سرگرم حقوقِ انسانی کے اداروں کا کہنا ہے کہ تین سو سے زائد کم سن بچے ریاست کی مختلف جیلوں میں ہیں۔ لیکن حکومت کا اصرار ہے کہ کوئی بھی نابالغ لڑکا پولیس کی تحویل میں نہیں ہے۔

اس تضاد کی وجہ یہاں کا ایک مقامی قانون ہے جس کے مطابق سولہ سال یا اس سے کم عمر کا شخص ہی بچہ یا کم سن کہلاتا ہے۔ لیکن بھارت کی دیگر ریاستوں میں اٹھارہ سال تک سبھی افراد قانونی طور پر بچے ہوتے ہیں۔

قانون دان اور سماجی کارکن عبدالرشید ہانجورہ کہتے ہیں پورے بھارت میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے سبھی شہریوں کو مبینہ جرائم کی صورت میں خصوصی بحالی مراکز میں رکھا جاتا ہے۔ ’لیکن کشمیر میں سولہ سال سے زائد عمر کے بچوں کو عام جیل میں قید کیا جاتاہے۔‘

مسٹر ہانجورہ ریاست کے اس قانون میں ترمیم کے لئے مہم چلارہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’عام جیل سے جب یہ بچہ باہر آتا ہے، تو اس میں انتقامی جذبہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ ناراضگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے پھر کوئی غیرقانونی حرکت کربیٹھتا ہے۔‘

دو ماہ قبل حکومت نے سرینگر کے نواحی علاقہ ہارا ون میں ایک 'جوِنائل ہوم' یعنی (شریر) بچوں کی بحالی کا مرکز قائم کیا ہے۔

وسیع میدان اور تین مزلہ عمارت پر مشمل اس مرکز کے نگران بشیر احمد کے مطابق دو ماہ کے دوران یہاں پندرہ بچوں کو لایا گیا جن میں اکثر کو پتھراؤ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سب کی عمر سولہ سال سے کم ہے۔ بعض بچوں نے نام ظاہر کئے بغیر بتایا کہ انہیں کھیل کود، پڑھائی اور دوسری سہولات میسر نہیں ہیں۔

اسی بارے میں