’اڈوانی کے راستےمیں بم نصب تھا‘

 اڈوانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اڈوانی بدعنوانی کے خلاف بیداری مہم کے لیے یاترا پر ہیں

بھارت میں اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کے راستے میں مدورائی کے پاس ایک پل کے نیچے سے کروڈ پائپ بم برآمد ہوا ہے۔

لال کرشن اڈوانی نے بدعنوانی کے خلاف بیداری مہم کے لیے ملک گیر رتھ یاترا شروع کی تھی جس کا آج سے دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کو یہ کروڈ بم مدروائی سے تیس کلو میٹرکے فاصلے پر عالم پٹّی کے پاس ایک پل کے نیچے ملا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ پانچ فٹ لمبا پائپ بم تاروں سے کنیکٹڈ تھا۔ تاہم حکام کی جانب سے ابھی ایسی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی جس سے اس بات کا اندوازہ ہو کہ اس کا نشانہ اڈوانی تھے یا پھر کیا وجوہات ہو سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی گہری تفتیش کے بغیر کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگي۔ اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں نہرو نامی ایک شخص کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گيا ہے۔

لال کرشن اڈوانی نے اپنی یاترا کا آج سے دوسرا مرحلہ شروع کیا ہے جس میں وہ جنوبی ہندوستان کے علاقوں کا دورہ کریں گے۔

جمعہ کی صبح وہ شری ولّی پتھور سے نکلے تھے اور انہیں ترومنگلم سے ہوتے ہوئے گزرنا تھا جہاں وہ ایک ریلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اڈوانی یاترا کے دوران بدعنوانی کے حوالے سے حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں

اڈوانی کو سخت ترین ذیڈ سکیورٹی حاصل ہے اور اطلاعات کے مطابق شیڈول کے مطابق ان کی یاترا میں کوئی خلل نہیں پڑیگا۔

اس وقت اڈوانی کی رتھ یاترا جنوبی ریاست تمل ناڈو سے گزر رہی اور نامہ نگاروں کے کا کہنا ہے کہ اڈوانی اس علاقے میں نہ صرف بی جے پی کے کارکناں میں نیا حوصلہ پیدا کر رہے ہیں بلکہ نئے سیاسی اتحادی تلاش کرنے میں بھی مصروف ہیں۔

لال کرشن اڈوانی بھارت میں اپنی سیاسی یاتراؤں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے کئی ریلیاں نکالیں لیکن سب سے پہلی ریلی سنہ انیس سو اکانوے میں ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے نکالی تھی جس سے وہ قومی سیاست میں بھی ابھرے۔

سنہ انیس سو ستانوے میں بھی انہوں نے سومناتھ کے مندر سے ایک یاترا نکالی تھی لیکن پہلی والی یاترا کے بعد سے وہ کوئی خاص کرشمہ نہیں دکھا سکے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان میں وہ اب کوئی کرشمہ نہیں ہے اور یہ وہ صرف سیاست میں دوبارہ واپسی کے لیے کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں