مغربی بنگال میں مزید بارہ بچے ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسی ہسپتال میں پہلے بھی دو درجن بچے ہلاک ہوگئے تھے

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے ہسپتال میں تیرہ بچوں کی ہلاکت کے دوسرے روز ضلع بردوان کے ایک ہسپتال میں بارہ نوزائیدہ بچوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

ادھر کولکتہ کے بی سی رائے ہسپتال میں جمعہ کو چاراور بچے ہلاک ہوئے ہیں اس طرح کولکتہ کے اس ہسپتال میں پیر سے اب تک سترہ بچوں کی ہلاکت کی خبر ہے۔

بردوان میں سرکاری ہسپتال کے نائب سپریٹنڈنٹ تپس کمارگھوش کا کہنا ہے کہ یہ بارہ اموات گزشتہ دو روز میں ہوئی ہیں۔

مسٹر گھوش کے مطابق یہ بچے ایک، دو اور تین دن کی عمروں کے تھے۔ ’ان بچوں کا وزن بہت کم تھا اور یرقان، دماغی بخار جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام بے بنیاد ہیں کہ بچے ہسپتال کی لاپرواہی کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔ مسٹر گھوش کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے ان کے علاج کے لیے اپنی تمام کوششیں کی تھیں لیکن وہ بہت کمزور تھے۔

گزشتہ روز کولکتہ کے بی سی رائے ہسپتال میں تیرہ بچوں کی ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے لیے والدین نے ہسپتال کی انتظامیہ پر الزام لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں ہسپتال کی لاپراہی کے سبب ہوئی ہیں۔

کولکتہ کے بی سی رائے ہسپتال میں جون کے مہینے میں بھی پچیس بچے ہلاک ہوگئے تھے۔

ہسپتال کی انتظامیہ نے والدین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن بچوں کی اموات واقع ہوئیں ان کی حالت پہلے ہی سے بہت خراب تھی۔

بی سی رائے ہسپتال کے ڈاکٹر دلیپ کمار پال کا کہنا تھا ’ہم علاج اور سروسز کو بہتر بنانے کی کوشش مستقل کرتے رہے ہیں لیکن بچوں کی موت اس لیے ہوئی کیونکہ انہیں بہت ہی تشویشناک حالات میں ہسپتال لایا گيا تھا۔''

بچوں کی ہلاکت کی خبر سن کر ریاست کی وزیراعلی ممتا بینرجی نے ہسپتال کا دورہ کیا ہے۔ بعد انہوں نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز کے علاقوں سے بہت سے بچوں کو علاج کے لیے لایا جاتا ہے اور وہ کمزور اور کم غذائیت کے شکار ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ کمزور بچوں کے بچنے کا امکان یوں بھی بہت کم ہوتا ہے۔ ہسپتال میں جدید سہولتیں موجود ہیں لیکن مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے کیونکہ کولکتہ میں بچوں کا کوئی دوسرا ہسپتال نہیں ہے‘۔

بچوں کی اموات کی خبر سے کولکتہ میں اس ہسپتال کی انتظامیہ سے لوگ کافی ناراض ہیں اور متاثرہ بچوں کے اہل خانہ نے ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے جون میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفتیش کرانے کے احکامات دیے تھے لیکن ابھی تک اس کی رپورٹ سانے نہیں آئی ہے۔ اس وقت بھی ہسپتال نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

کولکتہ میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی سی رائے ہسپتال میں سہولیات کی کافی کمی ہے لیکن اس میں بیمار بچوں کی ایک بڑی تعداد علاج کے لیے آتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق عام طور پرگنجائش سے زیادہ مریض داخل کر لیے جاتے ہیں اور چونکہ بستروں کی کمی ہے اس لیے بہت سے بیمار بچے جنہیں بستر نہیں مل پاتا وہ فرش پر ہی پڑے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں