ممبئی حملہ:’پاکستانی قیادت گھبراگئی تھی‘

کونڈولیزا رائس تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محترمہ رائس کی کتاب جلدی ہی منظرعام پر آنے والی ہے

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ممبئی پر حملوں کے بعد بھارتی وزیر خارجہ کے سخت الفاظ سے پاکستان کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ بھارت نے جنگ کا ارادہ کر لیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی فوج پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو’ پسند کرتی تھی اور انہیں ایماندار اور موثر مانتی تھی۔‘

کونڈولیزا رائس نے یہ بات اپنی کتاب ’نو گریٹر اونر‘ میں لکھی ہے جو اسی ماہ بازار میں آنے والی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی قیادت گھبرا گئی تھی اور اس نے چین سے لیکر سعودی عرب اور امریکہ تک سب کو فون کرنا شروع کردیے تھے۔‘

ایک مرحلے پر خود کونڈولیزا رائس بھی گھبرا گئی تھیں کیونکہ ان کی کئی کوششوں کے باوجود بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بات نہیں ہوپائی تھی۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق کونڈولیزا رائس نے لکھا ہے کہ ان افواہوں کے پیش نظر ہی صدر بش نے انہیں دلی اور اسلام آباد بھیجا تھا۔

کونڈولیزا رائس کے مطابق ان کے ایک معاون نے انہیں بتایا: ’پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے انہیں متنبہ کیا ہے کہ اس نے جنگ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ لیکن گزشتہ دو دنوں میں بھارتی رہنماؤں سے میری بات چیت سے مجھے یہ تاثر نہیں ملا تھا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پرنب مکھرجی دونوں کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے خلاف ہیں لیکن وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کچھ کارروائی کرے۔‘

بالآخر جب کونڈولیزا رائس کی پرنب مکھرجی سے بات ہوئی تو بھارتی وزیر خارجہ نے کہا:’ میں تو اپنے انتخابی حلقے میں ہوں۔۔۔اگر ہم جنگ کی تیاری کر رہے ہوتے تو کیا میں دلی سے باہر ہوتا؟‘

ممبئی پر حملوں کے بعد بھارتی حکومت پر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے لیے سخت دباؤ تھا لیکن حکومت نے واضح کر دیا تھا کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

پرنب مکھرجی نے کونڈولیزا رائس کو بتایا کہ انہوں نے اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے کہا تھا کہ’ آپ ہمارے سامنے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑ رہے۔`

لیکن سابق امریکی وزیر کا کہنا ہے کہ جب وہ اسلام آباد پہنچیں تو’ پاکستانی قیادت خوفزدہ بھی تھی اور ساتھ ہی بھارتی دعوؤں کو (کہ حملوں میں پاکستانی شدت پسند ملوت تھے) مسترد بھی کر رہی تھی۔‘

صدر زرداری نے ان سے کہا کہ وہ جنگ سے بچنا چاہتے ہیں لیکن یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ممبئی پر حملوں میں پاکستان کا کوئی ہاتھ تھا۔

جب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان سے کہا کہ حملہ آوروں سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا تو انہوں نے جواب دیا:’ مسٹر پرائم منسٹر، یا تو آپ مجھ سے جھوٹ بول رہے ہیں یا آپ کے لوگ آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس کے بعد میں نے انہیں بتایا کہ حملوں کے بارے میں ہمارے پاس کیا معلومات تھی۔۔۔ میں نے پاکستان کی حکومت پر یہ الزام نہیں لگایا کہ حملوں میں اس کا ہاتھ تھا لیکن سکیورٹی سروسز میں کچھ شرپسند عناصر حملہ آوروں کی مدد کرسکتے تھے۔۔۔یہ تسلیم کرنے اور زیادہ سنجیدگی سے تفتیش کرنے کا وقت آگیا تھا‘

اس کے بعد جنرل کیانی سے ملنے گئی، ہماری فوج انہیں پسند کرتی تھی اور انہیں ایماندار اور موثر مانتی تھی۔۔۔وہ ایک ایسے شخص تھے جو چاہے ذمہ داری نہ قبول کر پاتے لیکن یہ ضرور سمجھتے تھے کہ جو کچھ ہوا تھا پاکستان کواس کا جواب دینا ہوگا۔‘

اسی بارے میں