منی پور: شاہراہوں کی ناکہ بندی ختم

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ناکہ بندی کے سبب ضروری اشیا کی قلت پیدا ہوگئی تھی

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کی حکومت کی طرف سے نیا ضلع بنانے کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے بعد مقامی قبیلے نے اہم شاہروں کی ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔

ریاست منی پور کو ملک سے جوڑنے والے دونوں قومی شاہراہوں کی گزشتہ بانوے دنوں سے ناکہ بندی جاری تھی۔

نیشنل ہائی وے کے ذریعہ ہی منی پور میں غذائی اجناس، دوائیں اور ایندھن جیسی اشیاء مہیا کی جاتی ہیں اور اس ناکہ بندی سے ریاست میں ضروری اشیاء کی شدید قلت محسوس کی گئی۔

نئے ضلع کے مطالبے کے لیے کوکی قبائل گروپ نے اگست کے مہینے میں ناکہ بندی شروع کی تھی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ موجودہ سینا پتی ضلع کو تقسیم کرکے ایک نیا ’صدر ہل‘ ضلع بنایا جائے۔

سینا پتی ضلع میں ناگا قبائلیوں کی اکثریت ہے اور جب کوکی برادری نے نئے ضلع کے لیے احتجاج شروع کیا تو مخالف گروپ ناگاؤں نے اس کی مخالفت میں مظاہرے شروع کیے تھے۔

اطلاعات ہیں کہ مخالف قبائلی گروپ جو نیا ضلع بنانے کی مخالفت کر رہے ہیں ان کی طرف سے ناکہ بندی ابھی جاری ہے۔

منگل کی صبح ریاستی حکومت نے کوکی قبائل کے مطالبے کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ناکہ بندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا گيا۔ جبکہ ناگا گروپ نے اپنی ناکہ بندی کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ برس بھی ناگا قبائلیوں نے حکام کی جانب سے علحیدگی پسند ناگا رہنما تھونگلین موہیوا کو ان کے آبائی گاؤں میں جانے کی اجازت نا دینے کے خلاف انہیں قومی شاہراہوں کی ناکہ بندی کی تھی۔

اسی بارے میں