بھارت کی آدھی آبادی غریب، یو این ڈی پی

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ اس کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے۔

ادارے نے انسانی ترقی پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں اکسٹھ کروڑ لوگ غریب ہیں۔ یہ تعداد بھارتی حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے۔

بھارت میں یو این ڈی پی کی ڈائریکٹر کیٹلن وائزن کےمطابق انیس سو اسی اور دو ہزار گیارہ کے درمیان بھارت میں انسانی ترقی کے انڈیکس میں انسٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن ترقی کا فائدہ سب کو برابر نہ پہنچنے اور ماحولیات کی تباہی کی وجہ سے یہ رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔

بھارت میں غریبوں کی اصل تعداد پر کافی عرصے سے بحث جاری ہے جس میں حال ہی میں اس وقت شدت پیدا ہوگئی تھی جب منصوبہ بندی کمشن نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ جو لوگ بتیس روپے یومیہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں انتہائی غریب کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

خود حکومت کی تشکیل کردہ تیندولکر کمیٹی نےاپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک کی آبادی کا سینتیس فیصد حصہ انتہائی غریب کے زمرے میں آتا ہے۔

لیکن یو این ڈی پی نے غریبوں کا تعین کرنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ تیندولکر کمیٹی اور منصوبہ بندی کمیشن کے طریقوں سے مختلف ہے۔

ادارے نے آمدنی کے علاوہ حفظان صحت، تعلیم اور معیار زندگی کو بھی مد نظر رکھا ہے اور اس بنیاد پر غربت کا کثیر جہتی انڈیکس یا اشاریہ تیار کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس انڈیکس سے ملک میں غربت کی ایک واضح تصویر ابھر کرسامنے آتی ہے جو صرف آمدنی کی بنیاد پر ممکن نہیں ہے۔

اس انڈیکس کےمطابق دنیا کے دس سب سے غریب ممالک تو افریقہ میں ہیں لیکن اگر کسی ایک ملک میں کل تعداد کی بات کی جائے تو دنیا کے سب سے زیادہ غریب جنوب ایشیائی ممالک(بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش) میں رہتے ہیں۔

یو این ڈی پی آمدنی، صحت اور تعلیم کی بنیاد پر وضع کیے جانے والے اس انڈیکس کو پیمانہ بناکر دنیا کے زیادہ تر ممالک کی ایک فہرست تیار کرتا ہے۔

دو ہزار گیارہ کی رپورٹ میں ایک سو ستاسی ممالک کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں بھارت کو ایک سو چونتیسواں مقام حاصل ہوا ہے۔ پاکستان اس سے کچھ نیچے ایک سو پینتالیسویں مقام پر ہے۔ ہمسایہ ملک چین ایک سو ایک نمبر پر ہے جبکہ پہلے تین مقام باالترتیب ناروے، آسٹریلیا اور نیدر لینڈز کو حاصل ہوئے ہیں۔ امریکہ چوتھے اور جاپان بارہویں نمبر پر ہے۔

لیکن اگر امیر اور غریب کے فرق کو مد نظر رکھا جائے تو امریکہ چوتھے نمبر سے گرکر تئیسویں نمبر پر پہنچ جاتا ہے۔

بھارت کا شمار دنیا کی سب سے تیز رفتار کے ساتھ ترقی کرنے والی معیشتوں میں کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ تقریباً ایک برس میں اسے شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ملک میں مہنگائی تقریباً دس فیصد ہے جسے قابو کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اور اب حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اقتصادی ترقی کی رفتار تقریباً نو فیصد کے تخمینوں سے کہیں کم رہے گی۔

یو این ڈی پی کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ پائیدار اور متوازن ترقی کے لیے ’جرتمندانہ اقدامات‘ کی ضرورت ہے ورنہ دنیا بھر میں غریبوں کے معیار زندگی میں جو بہتری آئی ہے اسے برقرار نہیں رکھا جاسکے گا۔

رپورٹ میں مزید لکھا ہے ’ماضی کی رپورٹوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کئی دہائیوں سے دنیا کے زیادہ تر ممالک میں معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے لیکن اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ماحولیات کی تباہی اور سماجی عدم توازن کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ رحجان بدل سکتا ہے۔‘

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’پینے کے پانی تک رسائی، آلودگی اور زرعی پیداوار پر بڑھتی ہوئی گرمی کے اثر کی وجہ سے دو ہزار پچاس تک جنوبی ایشیا میں انسانی ترقی کا انڈیکس بارہ فیصد گر سکتا ہے۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ ماحولیات کی تباہی کا سب سے زیادہ نقصان سب سے غریب لوگوں کو ہوتا ہے اور کیونکہ ان کے پاس سیاسی طاقت نہیں ہوتی، لہذا عالمی سطح پر پالیسیوں میں خاطرخواہ تبدیلی لانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں