بھارت، عام اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے

بھارت میں عام اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس ہفتے افراط زر کی شرح بڑھ کر بارہ اعشاریہ اکیس فیصد ہوگئی ہے۔

گزشتہ ہفتہ یہ شرح گیارہ اعشاریہ تینتالیس تھی۔ اور موجودہ شرح گزشتہ نو ماہ میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئي ہے۔

افراط زر کی شرحوں میں یہ اضافہ بنیادی طور پر غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب ہوا ہے۔ خاص طور پر سبزیوں، دالوں، پھلوں اور ڈیری اشیاء کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

غذائی اشیاء کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ادارے ڈبلیو پی آئی یعنی ’ہول سیل پرائس انڈیکس‘ کے مطابق دو ہفتے قبل افراط زر کی شرح دس اعشاریہ ساٹھ تھی جبکہ گزشتہ ہفتہ یہ گيارہ اعشاریہ تینتالیس اور اس ہفتے بڑھ کر بارہ اعشاریہ اکیس ہوگئي ہے۔

وزیرخزانہ پرنب مکھرجی کا کہنا ہے کہ عام اشیاء کی قیمتوں میں یہ اضافہ تیہواروں کے سبب ہوا کیونکہ مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’افراط زر کی شرحیں شدید تشویش کا باعث ہیں۔ یہ فیسٹیو سیزن کے سبب بھی متاثر ہوئی ہیں اور نومبر سے رواں سال کے بچے چارمہینوں کے اصل ٹرینڈ آنے شروع ہوں گے۔‘

انڈیکس پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے قیمتوں پر قابو پانے کی تمام کوششوں کے باوجود اس قدر اضافہ اچھے اشارے نہیں ہیں۔

حکومت کی طرف سے جمعرات کوجو اعداد و شمار جاری کیےگئے ہیں اس کے مطابق سبزیوں کی قیمتوں میں سالانہ تقریبا انتیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ پھلوں کی قیمتوں میں تقریباً بارہ فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دودھ کی قیمتوں میں دس اعشاریہ پچاسی فیصد، انڈوں، گوشت اور مچھلیوں کی قیمتوں میں تقریباً تیرہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

سالانہ انڈیکس کے مطابق دال کی قیمتوں میں بھی گیارہ اعشاریہ پینسٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈیری اشیاء کی قیمتوں میں گيارہ اعشاریہ تہتّر فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

بھارت میں اس وقت ایندھن اور توانائی کی افراط زر کی شرح چودہ اعشاریہ ستّر ہے جبکہ گزشتہ ہفتہ پندرہ سے بھی اوپر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گوشت اور مچھلیوں کی قیمتوں میں بھی مستقل اضافہ دیکھا گیا ہے

ملک میں مہنگائی بہت بڑا اہم مسئلہ ہے اور چند روز قبل ہی مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح میں اضافہ کیا تھا۔گزشتہ مارچ سے اب تک کا یہ تیرہواں اضافہ تھا۔

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سود کی شروح میں مستقل اضافہ سے بھارتی معیشت بھی متاثر ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریزرو بینک نے معاشی ترقی کی رفتار میں بھی اپنے تخمینے میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ چونکہ عالمی سطح پر کساد بازاری کا ماحول ہے اس لیے بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار سات اعشاریہ چھ رہنے کی توقع ہے۔

بھارت میں رواں سال معاشی ترقی کی رفتار آٹھ فیصد رہنے کی پیشین گوئی کی گئي تھی۔

بھارت میں اس وقت مہنگائي کا بول بالا ہے اور افراط زر کی شرح مستقل نو اور دس فیصد کے درمیان ہی برقرار رہتی ہے اسی پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح میں اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا کی تمام کوششوں کے باوجود مہنگائی میں کمی نہیں آئی ہے۔ بینک کے بیان کے مطابق بڑی تشویش یہ ہے کہ ترقی کی رفتار میں کمی کے نمایاں آثار ہونے کے باوجود افراط زر کی شرح جوں کی توں برقرار ہے۔

بینک کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں عام اشیاء کی قیمتیں کم نہیں ہوں گی۔ ’مہنگائی بڑے پیمانے پر ہے اور ریزرو بینک کے مطمئن ہونے کی سطح سے کہیں اوپر ہے، اس سطح کے آئندہ دو ماہ تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔‘

گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ افراط زر میں دسمبر سے کمی ہونا شروع ہوجائے گی اور انہیں امید ہے کہ مارچ تک یہ شرح سات فیصد ہو جائے گی۔

لیکن سود کی اونچی شرح سے صنعتی پیداوار شدید طور پر متاثر ہورہی ہے کیونکہ قرض لینا مہنگا ہو جانے کی وجہ سے مانگ متاثر ہورہی ہے۔

اسی بارے میں