' حکومت جن لوک پال بل کو کمزور کررہی ہے'

اننا ہزارے
Image caption اننا ہزارے تین ہفتے سے خاموشی کا برت یعنی موت برت رکھے ہوئے تھے

سماجی رہنما انا ہزارے نے کہا ہے کہ حکومت نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اگر پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں ایک سخت قانون منظور نہیں کیا تو وہ تین دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے اور اس کے بعد ان پانچ ریاستوں میں تحریک شروع کریں گے جہاں جلدی ہی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔

انا ہزارے تقریباً تین ہفتے کا مون برت ( خاموشی) توڑنے کے بعد جمعہ کو دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جن لوک پال بل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پارلیمان کاسرمائی اجلاس بائیس نومبر سے بائیس دسمبر تک جاری رہے گا اور حکومت کی جانب سے کئی سینئر وزرا یہ واضح کر چکے ہیں کہ حکومت اپنے اس وعدے پر قائم ہے کہ بل آئندہ اجلاس میں پیش کر دیا جائے گا۔

یہ بل فی الحال پارلیمان کی مجلس قائمہ کے پاس ہے جہاں اسے حتمی شکل دی جارہی ہے۔ لیکن پارلیمان میں پیش کیے جانے کے بعد بھی اس میں ترامیم کی جاسکتی ہیں۔

اس سے پہلے انا ہزارے نے وزیر اعظم کو ایک خط لکھ کر متنبہ کیا تھا کہ اگر حکومت اپنے وعدے سے پیچھے ہٹتی ہے تو وہ دوبارہ اپنی تحریک شروع کریں گے۔

انا ہزارے نے کہا کہ صارفیں کو ایک مخصوص مدت کے اندر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور حکومت کے اندر بدعنوانی کا پردہ فاش کرنے والوں کے تحفظ کے لیے علیحدہ قانون بناکر حکومت جن لوک پال بل کو کمزور کر رہی ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے موثر اطلاق کے لیے یہ ضروری ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں میں انا ہزارے کی ٹیم کے سرکردہ رہنما اروند کیجریوال اور کرن بیدی تنازعات میں گھرے رہے ہیں۔ اروند کیجری وال کو محکمہ انکم ٹیکس نے، جہاں وہ پہلے ملازمت کرتےتھے، نو لاکھ روپےکے بقایہ جات کی واپسی کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ کیجری وال نے اپنے دوستوں سے قرض لیکر اب یہ رقم واپس کر دی ہے۔

ادھر کرن بیدی کو ان الزامات کا سامنا ہے کہ انہوں نےان غیرسرکاری تنظیموں سے، جو انہیں مختلف تقریبات میں شرکت کے لیے بلاتی تھیں، اپنے اخراجات سے زیادہ رقم وصول کی تھی۔ کرن بیدی کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان کے فلاحی ادارے کے لیے حاصل کی گئی تھی اور ان کے میزبان اگر چاہیں گےتو انہیں فاضل رقم واپس کر دی جائے گی۔

بہرحال، انا ہزارے نے اتراکھنڈ ریاست کے وزیر اعلی بی سی کھنڈوری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو لوک پال بل منظور کیا ہے وہ دوسری ریاستوں کے لیے بھی مشعل راہ بن سکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت ہے۔

اسی بارے میں