ہندوستان: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

بھارت میں ایک پیٹرول سٹیشن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں اس برس کئی بار پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے

بھارت میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کیے جانے کے بعد حکمراں یو پی ایے کے اندر بھی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس نے حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی ہے۔

ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر کیا ہے جو انہیں برداشت نہیں ہے۔

وزیر اعلی نے کلکتہ میں کہا کہ یو پی اے حکومت ’بار بار یک طرفہ فیصلے' کررہی ہے لیکن وہ حکومت سے الگ ہونے کے بارے میں وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے بعد ہی حتمی فیصلہ کریں گی۔ وزیراعظم جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس گئے ہوئے ہیں۔

ممتا بنرجی اور کانگریس کے تعلقات کافی عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ تیل درآمد کرنے والی سرکاری کمپنیوں نے جمعرات کی شب سے قیمتوں میں تقریباً پونے دو روپے کا اضافہ کیا ہے جس کے بعد دلی میں اب تیل کی قیمت اڑسٹھ روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

جون دو ہزار گیارہ کے بعد سے پیٹرول کی قیمت گیارہ مرتبہ بڑھائی جاچکی ہے اور صرف ڈیڑھ ماہ قبل ہی سوا تین روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

خود کانگریس پارٹی نے بھی حکومت کے فیصلے سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسے عام آدمی کو راحت پہنچانے کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

پارٹی کے ترجمان ابھی شیک منوسنگھوی نے کہا کہ ’کانگریس پارٹی قیمتوں میں اضافے پر بہت فکرمند ہے اور یہ امید کرتی ہے کہ حکومت مکمل سنجیدگی کے ساتھ نہ صرف اس اضافے کو کم کرنے بلکہ عام لوگوں کو راحت پہنچانے کے دوسرے طریقوں پر بھی غور کرے گی.'

وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں تیل کی کمپنیاں بین الاقوامی بازار میں تیل کے بھاؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے طے کرتی ہیں اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تیل درآمد کرنے والی کمپنیاں براہ راست حکومت کے کنٹرول میں ہیں ہوتی ہیں اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر یشونت سنہا نے بھی کہا کہ وزیر اعظم اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی مرضی کے بغیر یہ اضافہ ممکن نہیں تھا اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئےاس اضافے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

پارٹی کے ایک ترجمان راجیو پرتاپ روڈی نےاس فیصلے کو ’آدھی رات میں دھوکہ دہی’ سے تعبیر کیا اور کہا کہ حکومت عام آدمی کو ’ایک الگ قسم کی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے۔'

اسی بارے میں