ارم شرمیلا: بھوک ہڑتال کےگیارہ برس مکمل

اروم شرمیلا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اروم شرمیلا کے بھائی بہن انکے احتجاج میں انکے ساتھ ہیں

ہندوستان کی شمالی مشرقی ریاست منی پور سے تعلق رکھنے والی خاتون اروم شرمیلا سکیورٹی فورسز کو خصوصی اختیارات دینے کے خلاف جو بھوک ہڑتال شروع کی تھی اس کو اتوار کو گیارہ برس ہوگئے ہیں۔

گزشتہ گیارہ برس سے خود اروم شرمیلا نے نہ کچھ کھایا ہے اور نہ ہی پیا ہے۔ انہیں ریاستی حکومت کے احکامات کے تحت زبردستی ایک نالی کے ذریعے ناک سے خوراک دی جا رہی ہے۔

اروم شرمیلا کا کہنا ہے کہ ’ وہ اس وقت فاقہ کشی چھوڑ دے گی جب حکومت غیر مشروط پور پر مسلح فورسز کو دیےگئے خصوصی اختیارات واپس لے گی، لیکن اس سے پہلے نہیں۔‘

بھوک ہڑتال کی وجہ سے اروم شرمیلا منی پور میں ایک مشہور شخصیت بن گئی ہیں۔

ریاست کی آبادی پچس لاکھ ہے اور وہاں بڑی تعداد میں فوج، نیم فوجی دستے اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ریاست میں انیس سو اسی سے کم از کم بارہ باغی گروپ برسرپیکار ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے خصوصی اختیارات ضروری ہیں لیکن سول سوسائٹی کی تنظیمیں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتی ہیں۔

اروم شرمیلا نے اس وقت بھوک ہڑتال شروع کی تھی جب منی پور میں نیم فوجی دستے آسام رائفلرز نے دس نوجوانوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

بھوک ہڑتال شروع کرنے کے تیسرے روز پولیس نے انھیں اپنی جان لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

اروم شرمیلا کو ’آئرن لیڈی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اروم شرمیلا کی بھوک ہڑتال گیارہ برس مکمل ہوجانے پر دلی اور ممبئی میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی پروگرامز کیے جس کے تحت یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی حکومت اننا ہزارے کی طرح اروم شرمیلا کے احتجاج اور بھوک ہڑتال پر توجہ دے اور انکے مطالبات مانے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت کی اس بات پر تنقید کرتی ہیں کہ وہ اروم شرمیلا کے مطالبات پر اس لیے غور نہیں کرتی ہے کیونکہ دوردراز کی ریاست منی پور کی ہونے کے ناطے انہیں وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو اننا ہزارے کو تھی۔

گزشتہ دنوں اروم شرمیلا نے ایک ٹی وی چینل کو دیئے انٹریو میں کہا تھا کہ وہ چاہتی ہے کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنے۔

اسی بارے میں