امریکی جوہری کمیشن بھارت کا دورہ کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی ٹیم ممبئی کے بھابھا ایٹمی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا دورہ بھی کرے گی

امریکی جوہری ریگولیٹری کمیشن کا ایک وفد نومبر کے تیسرے ہفتے بھارت کے دورے پر پہنچ رہا ہے جہاں وہ جوہری تنصیبات کو بحفاظت چلانے پر مذاکرات کرے گا۔

امریکی کمیشن کے ایک بیان کے مطابق پانچ رکنی امریکی ٹیم چار روز کے دورے کے دوران بھارت کے تاراپور جوہری توانائی پلانٹ اور چنئی میں واقع مدراس جوہری توانائی پلانٹ کا دورہ کرے گا۔

کمیشن گرگوري ذےگسكو کی سربراہی میں بھارت کا سفر کر رہا ہے۔ یہ ٹیم ممبئی کے بھابھا ایٹمی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور چنئی میں موجود اندرا گاندھی جوہری تحقیق مرکز بھی جائے گی۔

گرگوري ذےگسكو نے کہا ہے ’میں بھارت میں جوہری سلامتی کے شعبے میں طویل المیعاد تعلقات کو جاری رکھنے اور اسے مضبوط کرنے کے موقع کی طرف دیکھ رہا ہوں۔‘

امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد بھارت میں جوہری آپریشن کو بحفاظت چلانے کے لیے سکیورٹی کے معیار اور قواعد پر معلومات کے تبادلے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ایٹمی شعبے سے ہی منسلک ایک نو رکنی امریکی تکنیکی ٹیم اتوار سے دہلی میں موجود ہے جہاں وہ ري ایكٹر ٹیكنالوجی سے وابستہ ایک کانفرنس میں حصہ لے گی۔

اس میں ایٹمی ری ایکٹر کی سلامتی سے متعلق مسائل جیسے زلزلے آنے کی صورت میں خصوصی ڈیزائن کے آلات وغیرہ پر بات چیت ہوگی۔

جاپان میں اسی سال آنے والے زلزلے اور سونامی اور اس کی وجہ سے فوکوشیما جوہری پلانٹ کو ہوئے نقصان کے بعد جوہری آپریشن کی سکیورٹی پر دنیا بھر میں نئی سوچ پیدا ہوئی ہے۔

بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے تمام پلانٹ محفوظ ہیں لیکن کئی حلقوں میں اس بات پر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں كڈن كلم پلانٹ کی تعمیر کی مخالفت ہو رہی ہے۔

مرکزی حکومت نے لوگوں اور ریاستی حکومت کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک ماہرین پر مبنی ایک کمیٹی قائم کی ہے جو اس اقدام کی مخالفت کرنے والوں کے نمائندوں سے بات چیت کر کے ان کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔

اسی بارے میں