کشمیر: قانون ہٹنے پر فوجی کمانڈر ناراض

افسپا کے خلاف ریلی فائل فوٹو
Image caption انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ فوج نے اس قانون کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیاں کی ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نافذ سخت فوجی قانون کو ہٹانے کے لئے حکومت اور فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔

فوج اور خفیہ اداروں پر مشتمل یونیفائڈ ہیڈکوارٹرس کا یہ اہم اجلاس بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعلٰی عمرعبداللہ نے آرمڈفورسز سپیشل پاورس ایکٹ یا افسپا کو جموں کشمیر کے پرامن اضلاع سے ہٹانے کے فیصلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔

لیکن بدھ کو جموں میں منعقدہ یہ اجلاس کسی نتیجہ کے بغیر اختتام پزیر ہوگیا۔

سرینگر سے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جموں کشمیر کے مختلف خطوں میں تعینات بھارتی فوج کے پانچ کمانڈروں نے افسپا ہٹانے کے فیصلے کی مخالفت کی، لیکن مسٹرعبداللہ نے انہیں بتایا کہ بھارت کے وزیرداخلہ پی چدامبرم نے انہیں ایسے علاقوں سے اس قانون کا نفاذ ختم کرنے کو جائز قراردیا ہے جہاں تشدد کی سطح کم ہوگئی ہے اور فوج کا کردار باقی نہیں رہا ہے۔

وزیراعلٰی نے اعتراض کرنے والے فوجی حکام کو بتایا کہ وہ تین سال کی کشیدگی کے بعد پرامن صورتحال کا فائدہ لوگوں کو پہنچانا چاہتے ہیں، اور اسی لیے وہ بعض پرامن علاقوں میں فوج کی سرگرمی کم کرنا چاہتے ہیں۔

اجلاس سے قبل سخت لہجہ میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کے جن علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی ضرورت نہیں رہی ہے، وہاں سے اس قانون کو ہٹانا اب ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سخت قوانین کو ختم کرنے کے لیے وہ آخری بندوق کے خاموش ہونے تک انتظار نہیں کرسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پچھلے سال جب سرینگر سے چالیس سیکورٹی بنکر ہٹائے گئے تو ایسی ہی آوازیں اُٹھیں کہ اب حملے ہونگے اور بم دھماکے ہونگے، لیکن نتیجہ کچھ اور ہی نکلا‘۔

انہوں نے پہلی مرتبہ وسطی کشمیر کے اضلاع سرینگر اور بڈگام کا نام لے کر کہا کہ یہاں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کنٹرول کے قریبی اضلاع کپوارہ اور بارہمولہ اضلاع سے اس قانون کو ہٹانے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔

افسپا کو محدود پیمانے پر ہٹانے کا مطالبہ وزیراعلٰی عمرعبداللہ پچھلے دو ہفتوں سے کر رہے ہیں۔ ان کے اس مطالبہ کی مخالفت نہ صرف حکومت ہند کی وزارت دفاع نے کی ہے بلکہ مسٹر عبداللہ کی مخلوط حکومت کے بعض وزراء نے بھی اس فیصلہ کی نکتہ چینی کی ہے۔

ذرائع کے مطابق یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کے اجلاس میں فوجی کمانڈروں نے وزیراعلٰی کو اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں مسلح شدت پسندوں کی بڑی تعداد کنٹرول لائن کے ذریعہ پاکستانی عسکریت پسند بھارتی علاقوں میں داخل ہونے کی تاک میں ہیں۔

لہٰذا فوج کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے افسپا جیسے قوانین کا تحفظ ملنا ضروری ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سال کے دوران مسلح تشدد کی سطح کافی حد تک گھٹ گئی ہے اور فوج کا کردار بھی محدود ہوگیا ہے، لہٰذا ان قوانین کی ضرورت ایسے علاقوں میں نہیں ہے جہاں اب مسلح تشدد کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوتا۔

واضح رہے اُنیس سو نوّے میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی حکومت ہند نےجموں کشمیر کو افسپا قانون کے زمرے میں رکھا تھا۔ اس سے قبل یہ قانون بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں نافذ کیا جاچکا تھا۔یہ قانون فوج کو محض شک کی بنا پر کسی کو گرفتار کرنے، کسی کو گولی مارنے یا کسی عمارت کو بارود سے اُڑانے کا اختیار دیتا ہے۔

کشمیر میں تعینات فوجی کمانڈر اس قانون کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔ شمالی کمان کے سابق کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جیسوال نے تو اس قانون کے بارے میں کہا ہے کہ یہ فوج کی ایک مقدس کتاب ہے۔

لیکن انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ فوج نے اس قانون کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیاں کی ہیں۔ آج کے اہم اجلاس میں یہ قانون ہٹائے جانے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ تو نہیں ہوا، لیکن وزیراعلیٰ نے پہلے ہی اعلان کیا کہ کابینہ کی اگلی نشست میں اس پر دوبارہ تبادلہ خیال کرینگے۔